خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 88
خطبات ناصر جلد پنجم ۸۸ خطبه جمعه ۳۰ مارچ ۱۹۷۳ء نہیں سمجھی گئی باوجود اس کے کہ بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت بخشی گئی ہے پھر بھی ہمیں یہ بتایا گیا ہے لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ (البقرة : ۲۸۲) یعنی فی نفس رسالت رسول اور رسول میں فرق نہیں کرنا۔اسی قسم کی بعض دوسری آیات میں بھی اسی قسم کا مفہوم بیان ہوا ہے۔پس فضیلت بھی ہے اور ان مسل“ میں فرق بھی نہیں کرنا یعنی نفس رسالت میں کوئی فرق نہیں ہے جو صاحب شریعت رسول ہے اور جو صاحب شریعت رسول نہیں ان دونوں رسالتوں میں نفسِ رسالت میں کوئی فرق نہیں دونوں رسول ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اُن کو اپنی حکمت کا ملہ سے مختلف زمانوں اور مختلف ممالک میں بسنے والی قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ان میں ایک رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) ایسے بھی ہیں جن کو ساری دنیا کی طرف سارے زمانوں کے لئے اور تمام بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا۔بایں ہمہ نفسِ رسالت میں ان میں اور دیگر رسل میں کوئی فرق نہیں۔پس فضیلت بھی ہے نفس رسالت میں کوئی فرق بھی نہیں ہے۔یہ رسل کے بعض بنیادی حقائق ہیں جن کی تفصیل میں میں اس وقت نہیں جا سکتا چنانچہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر قرآن عظیم صرف رسول کہتا تو نفس رسالت میں حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی فرق نہ رہتا یا حضرت یحیی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان نفس رسالت میں کوئی فرق نہ رہتا اگر چہ فضیلت اپنی جگہ پر ہوتی لیکن اتنی نمایاں فضیلت کہ جو تمام انبیاء سے آپ کو ممتاز کر دے اس کی ہمیں سمجھ نہ آتی۔اس لئے قرآن کریم نے جہاں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول کہہ کر رسالت کے مقام پر تمام رسل اور انبیاء کے برابر کھڑا کر دیا وہاں آپ کو ایک اور اعلیٰ مقام عطا فرمایا جس کا ذکر سورۃ احزاب کی آیت ۴۱ میں موجود ہے۔اس لحاظ سے آپ رسول بھی ہیں اور خاتم الانبیاء بھی ہیں۔خاتم الانبیاء یا ختم المرسلین ختم نبوت یا ختم رسالت کا جو مقام ہے اسے اسلامی اصطلاح میں مقام محمد بیت کہتے ہیں اور اس میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منفرد ہیں۔یہ وہ فضیلت نہیں جس کا فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ میں۔نسبتی فضیلت) ذکر ہے نسبتی فضیلت میں بھی نسبتی لحاظ سے اول اور آخر ہوتا ہے۔اگر نفس رسالت