خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 750
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۵۰ خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۷۴ء خدا کی محبت کے حصول میں اس کی وہ ایفرٹ (Effort) اور اس کی وہ کوشش اور اس کا وہ مجاہدہ ہے جس کے نتیجہ میں وہ مظہر صفات باری بن کر اللہ تعالیٰ کی صفات کا عکس اپنے اندر پیدا کر کے خدا تعالیٰ کا محبوب اور پیارا بندہ بن جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کے اندر یہی ایک چیز ہے جو فرق پیدا کرتی ہے انسان میں اور حیوانات میں، انسان میں اور نباتات میں، اور انسان میں اور جمادات میں۔اور یہ شرف انسان کو قوت دعا کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ طاقت عطا فرمائی ہے کہ وہ اُس کے حضور مفطر کی حیثیت میں حاضر ہو کر اس سے دعائیں کرے تا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس پر رجوع برحمت ہو اور اس کی دعاؤں کو قبول کرے۔غرض یہ دعا اور دعا کی قبولیت ہی ہے جو انسان اور غیر انسان میں فرق کرتی ہے البتہ تسبیح و تحمید میں کوئی فرق نہیں۔دونوں اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید میں لگے ہوئے ہیں لیکن انسان کے علاوہ دنیا کی کوئی چیز اپنے لئے دعا نہیں کر رہی۔میں نے یہ جان کر کہا ہے کہ انسان کے علاوہ دوسری مخلوق اپنے لئے دعا نہیں کرتی تاکہ کسی عالم کے دماغ میں یہ اعتراض نہ آئے کہ خدا تعالیٰ نے فرشتوں سے انسان کے لئے دُعائیں کرائی ہیں۔ٹھیک ہے مگر فرشتوں کی دعا اس دعا سے مختلف ہے جو انسان کرتا ہے کیونکہ فرشتوں کی تو خصلت ہی یہ ہے کہ وہ وہی کچھ کریں جو خدا انہیں کہے۔خدا نے کہا کہ میرے بندوں کے لئے دُعائیں کرو۔اُنہوں نے دُعائیں کرنی شروع کر دیں۔وہ انکار کر ہی نہیں سکتے۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اس معنی میں فرشتہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کو بہر حال مانتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا جو حکم ہوتا ہے وہ اس کے مطابق کام کرتا ہے۔چنانچہ آپ نے فرمایا اس معنی میں دنیا کی ہر مخلوق فرشتہ ہے کیونکہ دنیا کی کوئی بھی مخلوق ایسی نہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی بات کے کرنے کا حکم ہو اور وہ اباء اور استکبار کرے اور کہے کہ اے خدا! میں نے تیرا حکم نہیں مانتا۔جہاں بھی ہمیں اباء اور استکبار نظر آتا ہے وہاں اس لئے نظر آتا ہے کہ جیسا کہ قرآنِ کریم سے ظاہر ہے شیطان کو یہ اجازت اور ڈھیل دی گئی تھی کہ وہ اباء اور استکبار کرے اور یہ بھی دعا بہر حال نہیں ہے۔اباء ہے اور استکبار ہے یعنی ”خدا تعالیٰ کی بات کو نہ ماننا یہ بات مان کر کہ بات نہ مانے۔یہ ایک لمبا مضمون ہے اس کی تفصیل میں میں اس