خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 751
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۵۱ خطبه جمعه ۱٫۲۵ کتوبر ۱۹۷۴ء وقت نہیں جانا چاہتا بعض لوگوں کے دماغ میں ایک خیال پیدا ہوسکتا تھا اُس کو میں نے دُور کرنے کے لئے اشارہ کر دیا ہے۔بہر حال جو چیز انسان اور غیر انسان میں فرق والی ہے وہ اسلام کے نزدیک قوتِ دعا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ طاقت دی ہے اور یہ سمجھ عطا کی ہے اور یہ معرفت بخشی ہے کہ دعا کے بغیر اس کی زندگی کوئی زندگی نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ وعدہ دیا ہے کہ جب وہ شرائط دعا کے ساتھ خدا کے حضور عاجزانہ طور پر جھک کر دعا کرے گا تو وہ اس کی دعا کو قبول کرے گا یہاں تک کہ اگر وہ نادانستہ طور پر اپنی ہلاکت کے لئے دعا مانگ رہا ہو گا تب بھی اس کی دعا کو قبول کرے گا مگر اس کو ہلاک کرنے کے لئے نہیں بلکہ اس صورت میں کہ اس کی دعا اس کے لئے بھلائی کا باعث بن جائے گی۔مثلاً جس طرح بچہ آگ کا انگارہ پکڑنے کی کوشش کرتا ہے اسی طرح بہت سارے لوگ خدا تعالیٰ کے حضور ایسی دُعائیں کرتے ہیں جو دراصل اُن کی تباہی کا باعث بننے والی ہوتی ہیں اس لئے بظاہر وہ دُعائیں قبول نہیں ہوتیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اُن کو تباہ نہیں کرنا چاہتا بلکہ اُن کو ہلاکت سے بچانا چاہتا ہے اس لئے ایسی دُعائیں کسی اور رنگ میں قبول ہو جاتی ہیں۔سچی بات یہ ہے اور ہر عارف اسے جانتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور شرائط کے ساتھ عاجزانہ اور متضرعانہ دعائیں قبول ہو جاتی ہیں قبولیت کے وقت میں فرق ہے۔قبولیت کی شکل میں فرق ہے لیکن قبولیت میں کوئی شک نہیں ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں دعا کے متعلق ہمیں بڑی وسیع تعلیم دی ہے اور ہر طرح سے اس کی حکمت سمجھائی ہے۔میں نے اس ضمن میں تین آیات منتخب کی ہیں۔پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو مخاطب کر کے فرما یا أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ میں ہر پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہوں اور اس کی دعاؤں کو قبول کرتا ہوں بشرطیکہ وہ میرے حضور جھکے اور مجھ سے دعائیں کرے۔اِذَا دَعَانِ میں دراصل شرائط دعا ہی کا ذکر ہے۔پھر فرمایا فَلْيَسْتَجِيبُوا نِی انسان کو میں نے اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میرے حکم کو مانے اور پھر فرمایا وَلْيُؤْمِنُوا فِی ایمان کے اُن تقاضوں کو بھی پورا کرے جو میں نے قائم کئے ہیں اور ایمان ہے زبان سے اقرار کرنا اور دل سے تسلیم کرنا اور اعمال سے اس اقرار اور تسلیم پر مہر لگانا۔