خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 570
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۷۰ خطبہ جمعہ ۲۴ رمئی ۱۹۷۴ء اس کا ایک کارندہ ہوں اور اُس کے حکم سے کرتا ہوں جو کرتا ہوں۔اُن سے کہا اچھا تمہارے گھر میں جو داخل ہو جائے گا اُس کو ہم پناہ دیں گے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دو گروہ ہو جاتے ہیں۔ایک مومنوں کا گروہ ہے۔ایک کافروں کا گروہ ہے۔جو کافر ہیں وہ انکار کرتے ہیں اور حقیقتاً اس لئے انکار نہیں کرتے کہ وہ اُس نبی کے منکر ہیں اور پہلوں کے وہ ماننے والے ہیں بلکہ ایک زمانہ گذرنے کے بعد حقیقت یہ ہے کہ قصے رہ جاتے ہیں اور حقیقی ایمان دل میں نہیں ہوتا کیونکہ اگر حقیقی ایمان ہو تو نئے آنے والے پر بھی فوراً ایمان لے آئیں کیونکہ وہی سلوک جو پہلوں سے تھوڑا یا بہت اللہ تعالیٰ کا ہوا وہی سلوک بعد میں آنے والے سے ہوا۔اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ نے انتہائی پیار کیا۔اس میں شک نہیں لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ پہلے انبیاء سے بھی اللہ تعالیٰ نے پیار کیا۔ان کے حالات کے مطابق ان کے ذریعہ جو ذمہ داریاں اُن کی اُمت کی اُن پر ڈالی گئی تھیں اس کے مطابق پیار کیا لیکن جس نے انتہائی قربانی اپنے پیدا کرنے والے رب کے حضور پیش کی اور جو انتہائی محبت اور عشق کے مقام پر پہنچا اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے انتہائی تعلق اور محبت اور پیار کا سلوک کیا لیکن اس کا جو خا کہ بنتا ہے اور جو تصویر بنتی ہے وہ شروع سے ایک ہی ہے کہ خدا تعالیٰ کا پیار نبی اور اس کے ماننے والوں کو حاصل ہوتا ہے۔آدم سے لے کر اس وقت تک ہم نے یہی دیکھا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو شک ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ذکر نازل بھی ہوتا ہے یا نہیں اور اس شک کی وجہ سے وہ آنے والے کو بھی نہیں مانتے اور حقیقت یہ ہے کہ بک لیا يَذُوقُوا عَذَاب (ص : 9) اُس وقت تک یہ مخالفت کرتے رہیں گے، منصوبے بناتے رہیں گے، تکالیف دیتے رہیں گے۔نا کام کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے جب تک اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز کا جلوہ گرفت کی صورت میں نہیں دیکھیں گے اور اس عرصہ میں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی رحمت کے خزانے صرف ان کو دیئے گئے ہیں اور مومنین کو وہ نہیں مل سکتے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے مومن کو اللہ تعالیٰ ابتلا میں ڈالتا ہے ایک تو اس کا یہ امتحان لیتا ہے کہ جو تر بیت خدا تعالیٰ کے نبی اور مامور کے ذریعہ سے اس کی کی گئی ہے وہ تربیت اُس نے حاصل