خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 507 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 507

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۰۷ خطبہ جمعہ ۲۹ / مارچ ۱۹۷۴ء کرتا ہے اس کا بھی ہمیں علم نہیں۔لوگ اب بھی اپنے وعدے بڑھا رہے ہیں۔دو مہینے میں بھی بعض لوگوں نے اپنے وعدے بڑھا دیئے ہیں۔اس عرصہ میں بھی بڑھاتے رہیں گے۔پس میں یہ بتا رہا تھا کہ جب انسان کا دل اللہ اور اُس کی بنائی ہوئی فطرت سے موافقت رکھتا ہے جسے ہم قلب سلیم کہتے ہیں تو مومنانہ جرات کے ساتھ بیان کی بھی اُسے توفیق ملتی ہے اور مومنانہ قربانی اور ایثار سے بشاشت کے ساتھ اعمالِ صالحہ بجالانے کی بھی اُسے قوت عطا کی جاتی ہے۔چنانچہ آج میں اللہ تعالیٰ کی حمد سے معمور ہو کر اور اُس کی حمد کے ترانے گاتے ہوئے یہ اعلان کرتا ہوں کہ ابھی شوری نہیں شروع ہوئی اس میں چند گھنٹے باقی ہیں اور صد سالہ احمد یہ جو بلی فنڈ میں عطایا کے وعدے نو کروڑ بیس لاکھ تک پہنچ گئے ہیں اور اس میں بھی وہ وعدے شامل نہیں جن کا مجھے علم ہے لیکن جن کی اطلاع متعلقہ دفتر کو ابھی نہیں پہنچی اور وہ بھی میرا خیال ہے کہ شاید ۵۰لاکھ کے لگ بھگ ہوں گے اور ابھی وعدے آ رہے ہیں اندرونِ ملک سے بھی آرہے ہیں باہر سے بھی آ رہے ہیں۔دیکھو! خدا کتنا پیار کرنے والا ہے۔اُس نے مجھ سے اعلان کروایا کہ جماعت اڑھائی کروڑ کی قربانی دے اور مجھے اور جماعت کو توفیق دی کہ وہ یہ قربانی دے۔پھر مجھ سے اس خواہش کا اظہار کر وایا کہ پانچ کروڑ تک یہ رقم پہنچ جائے اگر چہ میں اپیل اس کی نہیں کرتا۔اُس وقت میں نے صرف خواہش کا اظہار کیا تھا۔جماعت نے پانچ کروڑ کے وعدے کر دیئے۔پھر میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس رنگ میں نازل ہوتی مجھے نظر آ رہی ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ نو کروڑ تک پہنچ جائیں گے پھر میں نے کہا تھا جتنی ضرورت ہوگی پہنچیں گے ضرورت کا مجھے علم نہیں مگر میرے رب کو اس کا علم ہے۔اُس کے مطابق خدا تعالیٰ مال کا انتظام کرتا چلا جائے گا اور اس وقت جو دفتر میں رجسٹر میں لکھے جاچکے وہ وعدے نو کروڑ بیس لاکھ تک چلے گئے یعنی نو کروڑ سے آگے نکل گئے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ان وعدوں کا رُخ اُس ضرورت کی طرف ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے ہمارے علم میں نہیں۔پس مخلصانہ طور پر تہہ دل سے اللہ تعالیٰ کی حمد سے معمور ہو کر زبان سے اور اپنے افعال سے