خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 506
خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۲۹ / مارچ ۱۹۷۴ء کے مقابلے میں کتنا عظیم ایثار اور قربانی کا جذبہ ہمارے دل میں پیدا ہوتا ہے۔دنیا حیران رہ جاتی ہے۔بعض دفعہ خود ہم بھی حیران رہ جاتے ہیں۔گذشتہ جلسہ سالانہ کے موقع پر میں نے ایک منصوبہ جماعت کے سامنے پیش کیا اور بعد میں اس کا نام ”صد سالہ احمد یہ جو بلی منصوبہ رکھا گیا۔اُس کی تفصیل جیسا کہ میں نے وعدہ کیا تھا کہ آج شوری کے سامنے پیش کر کے کوئی لائحہ عمل تیار کر لیا جائے گا انشاء اللہ تعالی۔" جلسہ سالانہ میں میں نے یہ اعلان کیا تھا کہ میں شوریٰ تک یعنی مارچ کے آخر تک وقت دیتا ہوں۔دوست مارچ کے آخر تک صد سالہ احمد یہ جو بلی فنڈ کے لئے اپنے وعدے پہنچادیں اور اُس وقت میرے دل کی جو کیفیت تھی وہ اپنے اندر دو پہلو رکھتی تھی اور اُس کے مطابق میں نے اُس وقت اعلان کیا لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کو دیکھتے ہوئے میرے دل میں کچھ اور خواہشات بھی پیدا ہوئیں اور پھر میں نے ان کا اعلان کیا۔جلسہ سالانہ پر میں نے کہا کہ میں اس منصوبہ کے لئے اڑھائی کروڑ روپے کی اپیل کرتا ہوں اور اُسی وقت میں نے یہ اعلان بھی کیا کہ میری یہ خواہش ہے اور مجھے امید ہے کہ ایسا ہو جائے گا کہ اس فنڈ میں پانچ کروڑ کی رقم آجائے گی۔بعد میں اللہ کے فضلوں کو دیکھ کر گذشتہ دنوں اپنے چند روزہ قیام لاہور کے دوران (۸ / مارچ ۱۹۷۴ ء کے ) خطبہ جمعہ میں میں نے یہ اعلان کیا کہ نظر ایسا آرہا ہے اور میں اُمید کرتا ہوں کہ یہ فنڈ نو کروڑ تک پہنچ جائے گا اور ساتھ میں نے یہ کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ سوال اڑھائی کروڑ یا پانچ کروڑ یا نو کروڑ کا نہیں۔سوال ہے اسلام کو غالب کرنے کے منصوبے اور تدابیر جو ہمارے ذہن میں آتی ہیں اُن کو عملی جامہ پہنانے کا۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس زمانہ میں اسلام ساری دنیا پر غالب آئے اور چونکہ اس کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے جماعت احمدیہ کو بچنا ہے اس لئے اصول یہ ہے کہ اس منصوبہ کو کامیاب کرنے کے لئے جتنی بھی رقم کی ضرورت ہوگی اللہ تعالیٰ اُس کا سامان پیدا کرے گا خواہ وہ رقم بیس کروڑ تک کیوں نہ ہو۔ضرورت کا ہمیں علم نہیں ان پندرہ سالوں میں پندرہ مختلف گروہ جماعت میں داخل ہونے والے ہیں جو نئے سرے سے کمانے لگیں گے۔اُن کی قربانیاں تو ہمارے سامنے نہیں آئیں۔پھر اللہ تعالیٰ کس رنگ میں کتنی رحمتیں