خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 27 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 27

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۷ خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۷۳ء شاہراہوں پر بھی مسکراہٹیں نظر آنی چاہئیں۔چنانچہ انہی مسکراہٹوں کو نمایاں کرنے کے لئے میں نے مجلس صحت کا اجراء کیا تھا اور اس کے قیام پر اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ اہلِ ربوہ گھروں میں پھلدار اور کھلے میدانوں اور سڑکوں پر سایہ دار درخت لگا کر ربوہ کو ایک خوبصورت باغ کی شکل میں تبدیل کر دیں کیونکہ علاوہ اور بہت سے فوائد کے ہمیں لہلہاتے ہوئے درختوں میں خدا تعالیٰ کی قدرتیں جلوہ گر دکھائی دیتی ہیں جن سے انسان بہت سے جسمانی اور روحانی فائدے اُٹھا سکتا ہے۔چنانچہ میری اس تحریک پر پچھلے سال موسم خزاں کے آخر میں جو درخت لگائے گئے تھے۔مجلس صحت کی طرف سے موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق اُن پر جو حالت گذری اور جن حادثات کا ان کو سامنا کرنا پڑا خدا تعالیٰ درختوں کو بھی اور انسان کو بھی اُن حادثات سے محفوظ رکھے کچھ تو بچوں نے توڑ تاڑ دیئے۔میں کہتا ہوں ایک احمدی طفل اگر درختوں کو توڑتا ہے تو اس کے ماں باپ ذمہ دار ہیں پھر کچھ درخت آندھیوں کی نذر ہو گئے کچھ درختوں کو زندگی کا پانی نہیں ملا اور وہ مُرجھا گئے کچھ درختوں کو غذا نہیں دی گئی۔درختوں کو غذا کی بھی ضرورت ہوتی ہے یعنی یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ جس جگہ درخت لگایا گیا ہے وہاں اس کے پنپنے کے لئے حالات سازگار ہیں یا نہیں۔دو تین سال ہوئے ہم نے اپنی زمینوں پر ایک بڑ کا درخت لگایا۔چنانچہ میں نے دیکھا کہ گرمیوں میں اس کی شاخیں نکل آتیں اور وہ بڑا خوبصورت لگتا لیکن جب موسم سرما آتا اور کورا پڑتا تو وہ مرجھا جاتا پھر گرمیوں میں اس کی جڑ میں سے ایک اور شاخ نکل آتی تھی۔دوسال تک ہم اس کے ساتھ اسے زندہ رکھنے کا کھیل کھیلتے رہے مگر بے سُود۔چند مہینے ہوئے ان سردیوں سے پہلے مجھے خیال آیا کہ یہ درخت تو بڑا مظلوم ہے۔جس جگہ ہم نے اسے لگا رکھا ہے اس جگہ زمین کے دوفٹ نیچے ریت کی موٹی تہ شروع ہوتی ہے جس میں درخت کے لئے کوئی غذائیت موجود نہیں غذا نہ ملنے کی وجہ سے اس میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ شدت سرما کا مقابلہ کر سکے۔چنانچہ میں نے اس کے اردگرد گو بر کی کھاد ڈلوادی اور اب اتنی سخت سردی کے باوجود وہ بڑا اچھا اور سرسبز ہے اور بہت خوبصورت لگتا ہے۔پس درختوں پر بھی گو اللہ تعالیٰ ہی کا قانون کارفرما ہے۔اصل حکم تو اللہ تعالیٰ ہی کا چلتا ہے لیکن اس کے قانون کا ہمیں بھی خیال رکھنا پڑتا ہے۔درختوں کی غذا بھی ضروری ہے