خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 28
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۸ خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۷۳ء اگر اُن کو غذا نہ ملے تو وہ مُرجھا جاتے ہیں۔پس گذشتہ سال کی شجر کاری ایک تجربہ تھا جس میں درختوں کو ضائع کیا۔عربی کا محاورہ ہے مَا ضَاعَ مَالُكَ مَا وَعَظَكَ “ کہ جس مال کے ضائع ہونے سے تمہیں نصیحت حاصل ہو اور اس سے تم سبق سیکھو اس کو ضائع نہ سمجھو اس لئے جو درخت ضائع ہو گئے ہیں اگر ان کی جگہ نئے درخت اس آنے والے موسم میں لگا دیئے جائیں اور وہ چل نکلیں تو تلافی مافات ہو سکتی ہے۔چنانچہ اب ۲۵ فروری کے بعد حکومت کے اعلان کے مطابق درخت لگانے کا موسم شروع ہو رہا ہے نگران مجلس صحت کہتے ہیں کہ انہوں نے اس موسم میں تین ہزار درخت لگانے کا انتظام کیا ہے۔میرے نزدیک یہ تعداد کم ہے۔میں سمجھتا ہوں اور اس میں کوئی مشکل نہیں کہ ربوہ میں دس ہزار درخت لگنے چاہئیں۔عام حوادث اور نا تجربہ کاری کے پیش نظر اگر پانچ ہزار یعنی پچاس فیصد درخت ضائع بھی ہو جائیں تب بھی میں پانچ ہزار درخت زندہ وسلامت دیکھنا چاہتا ہوں۔جب اگلا موسم سرما آئے تو اتنے درخت اپنی عمر کے لحاظ سے اونچا قد نکال چکے ہوں۔اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے احباب ربوہ خدا کی بتائی ہوئی تدابیر بھی کریں اور خدا کی بتائی ہوئی دعا بھی کریں خدا کے حضور جھکیں اس سے اس کا فضل مانگیں درختوں کے لگانے اور اُن کی دیکھ بھال کی توفیق مانگیں ، عقل مانگیں، فراست مانگیں اپنے بچوں کی تربیت کی توفیق مانگیں میٹھا پانی مانگیں وہ بڑا دیالو ہے۔وہ ہر چیز دینے والا ہے اپنی ضرورت کی ہر چیز اس سے مانگیں۔میری یہ خواہش ہے کہ ربوہ میں درخت لگا کر اسے سرسبز و شاداب بنا دیا جائے۔میں آپ پر یہ ذمہ داری ڈالتا ہوں یہ بڑا ضروری کام ہے اس میں پورے ذوق اور شوق کے ساتھ حصہ لیں۔شجر کاری کی اہمیت کو گو سرکاری سطح پر بھی محسوس کیا جاتا رہا ہے لیکن پچھلے ۲۵ سال میں ہمارے ملک میں ہر سال کروڑوں درخت لگائے گئے اور قریبا کروڑوں درخت ہی ضائع بھی ہو گئے اگر ان میں سے نصف تعداد میں بھی درختوں کی حفاظت کرنے کے ہم قابل ہوتے تو اس وقت سارا پاکستان (ہوائی جہاز سے ) ایک خوبصورت جنگل یا باغ نظر آتا لیکن اب ایسا نظر نہیں آتا کیونکہ درخت بہت کم ہیں اس لئے محض درختوں کے لگانے پر خوشی کا اعلان جہالت کا اعلان ہے۔