خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 26 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 26

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۶ خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۷۳ء فرمائی۔تاہم اُن کے بیٹوں پر اب ذمہ داری بھی آپڑی ہے۔باپ کی زندگی میں بعض بچے بعض دفعہ کچھ لا پروا بھی ہو جایا کرتے ہیں۔اگر وہ غلطی کریں تو باپ تصحیح کر دیتا ہے ان کی غلطی کو ڈور کر دیتا ہے غرض وہ اُن کی ہر رنگ میں تربیت کرتا ہے۔مگر جب انسان کو اپنی بقا کی ساری ذمہ داریاں اپنے کندھوں پر خود ہی اٹھانی پڑتی ہیں تو پھر اُسے خود ہی اپنا مربی بھی بننا پڑتا ہے۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: - وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا کہ انسان پر اس کے نفس کا بھی حق ہے۔پس انسانی زندگی میں جب یہ مرحلہ آتا ہے کہ اس کا بزرگ باپ داغ مفارقت دے جاتا ہے تو پھر کوئی باہر سے آکر اس کا مربی نہیں بنتا۔اس صورت میں انسان خود اپنا استاد بھی ہوتا ہے اور اپنا شاگرد بھی ہوتا ہے یعنی خود اپنی تربیت بھی کر رہا ہوتا ہے اور دوسروں سے تربیت حاصل بھی کر رہا ہوتا ہے۔غرض حضرت میاں عزیز احمد صاحب کی جدائی سے اُن کے بیٹوں کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ سے ہماری دعا ہے کہ وہ اپنے فضل سے حضرت میاں صاحب کی مغفرت فرمائے اور اُن کی اولا د کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور اُن کو نباہنے کی توفیق عطا فرمائے۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے کہ اس دنیا میں بھی زندگی کے بہت سے پہلو ایسے ہیں جن کی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ موت کے سرچشمہ سے زندگی کے سوتے پھوٹتے ہیں۔چنانچہ حقیقی زندگی مسکراہٹ اور بشاشت کا دوسرا نام ہے۔جو درخت مرجاتا ہے یا جب درخت مرجاتے ہیں تو باغ پر مردنی چھا جاتی ہے لیکن جو درخت زندہ ہے اور اس کی زندگی کی علامت یہ ہے کہ سبزہ ہے اس کے پتوں پر پھول ہیں اس کی ٹہنیوں پر اور وہ پھلوں سے لدا ہوا ہے تو گویا اس کی سرسبزی و شادابی اور اس کے پھول اور پھل اس کی دلآویز مسکراہٹوں کے مترادف ہیں یہی وجہ ہے کہ سرسبز اور پھول دار درخت کے وجود میں شاعر مسکراہٹیں دیکھتا اور اپنے کلام کو پھولوں کی طرح خوشنما بناتا ہے۔ہم اللہ تعالیٰ کے عاجز بندے ہیں۔ہمیں روحانی حیات میں جو خوشیاں اور مسکراہٹیں اور بشاشتیں نظر آتی ہیں یہ ہمیں کہیں اور نظر نہیں آتیں۔چنانچہ ربوہ ہماری مسکراہٹوں کا مرکز ہے۔اس کی مسکراہٹیں قائم رہنی چاہئیں۔اہل ربوہ کے چہروں پر بھی اور ربوہ کی فضاؤں میں بھی اور اس کی ہواؤں میں بھی مسکراہٹیں کھیلتی رہنی چاہئیں۔ربوہ کی گلیوں میں بھی اور اس کی