خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 22
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۲ خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۷۳ء بھائی خدا تعالیٰ کے اس پیار کو پانے والے ہوں اور والدہ کی جُدائی اُن پر شاق نہ گذرے۔جہاں تک زندگی اور موت کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمتِ کاملہ سے زندگی اور موت کو اپنے بنائے ہوئے قانون کے اندر باندھ رکھا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ جو سب قدرتوں کا مالک ہے اور تمام صفات حسنہ سے متصف ہے اور جس کے اندر کوئی عیب کمزوری اور نقص نہیں اُس نے بتایا ہے کہ میں ہی مردہ سے زندہ کو پیدا کرتا ہوں اور پھر زندوں سے موت کو نکالتا ہوں زندگی اور موت صرف انسانوں سے تعلق نہیں رکھتی ، صرف جانداروں سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ غیر جانداروں سے بھی اس کا تعلق ہے۔مثلاً درخت ہیں گوان میں زندگی تو پائی جاتی ہے۔لیکن وہ انسان کی طرح زندہ نہیں ہوتے اس لئے وہ زندہ بھی ہوتے ہیں اور مُردہ بھی ہوتے ہیں۔وہ خوبصورت پھولوں اور پھلوں سے لدے ہوئے بھی ہوتے ہیں اور ھشیم یعنی سوکھی ٹہنیوں کی طرح بھی ہمیں نظر آتے ہیں۔درختوں میں بھی خدا تعالیٰ کا یہ قانون جاری ہے کہ اجتماعی اور نوعی زندگی اور بقا کے لئے درخت کی موت میں سے زندگی کا چشمہ پھوٹتا ہے مثلاً کیلے کا درخت ہے جب یہ اپنے موسم میں پھل دیتا ہے تو پھل دینے والے تنے کو نا کارہ سمجھ کر کاٹ دیا جاتا ہے لیکن اس کی جڑوں میں سے تین چار کیلے کے پودے نکل آتے ہیں جن سے خدا تعالیٰ کے قانون کے مطابق اچھا پھل بننا ہو تو وہاں سے نکال کر دوسری جگہوں پر لگا دیا جاتا ہے اور اس طرح ایک سے کئی پودے نکلتے رہتے ہیں۔بعض درخت اپنے پیچھے بظاہر زندگی سے محروم بیج چھوڑ جاتے ہیں مگر اس بیچ میں سے جس میں انسان کی ظاہری آنکھ زندگی نہیں دیکھ رہی ہوتی اللہ تعالیٰ اس میں سے زندگی کو پیدا کرتا ہے۔مثلاً آم کی گٹھلی سے آم کا پودا نکل آتا ہے اور مالٹے کی ٹہنیوں سے جو درخت سے کٹنے کی وجہ سے بظاہر مُردہ ہو جاتی ہیں انسان اُن سے آنکھ پیوند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس میں زندگی کی لہر دوڑا دیتا ہے۔پس موت سے زندگی کو پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم قانون ہے اس میں اس کی ایک ز بر دست شان نظر آتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ قانون اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے۔پھر زندگی اور موت دونوں جسمانی بھی ہوتی ہیں اور روحانی بھی۔جہاں تک بنیادی قوانین کا تعلق ہے یہ دونوں