خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 23
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۳ خطبہ جمعہ ۲۶ جنوری ۱۹۷۳ء پر حاوی اور جاری ہیں۔جب انسان کی اپنی ہی شامت اعمال کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کو اس کی زندگی ختم کرنا مقصود ہوتو وہ انسان جسمانی طور پر وفات پا جاتا ہے گو اس طرح جسمانی اور روحانی لحاظ سے اس کا دنیا سے کوئی تعلق نہیں رہتا لیکن ایک شخص جو روحانی طور پر خدا تعالیٰ کا فدائی اور جاں شمار ہوتا ہے جب وفات پا جاتا ہے تو اس کی نیکی کسی نہ کسی شکل میں باقی رہتی ہے۔اس کی مثال اس درخت کی ہوتی ہے جس کی جڑوں میں سے ویسے ہی یا بعض دفعہ اس سے بھی اچھے پودے نکلتے نظر آتے ہیں جو شخص اللہ تعالیٰ سے پیار نہیں کرتا وہ جب مرجاتا ہے تو اس کے درخت وجود سے ایسے پودے نکلتے نظر نہیں آتے بلکہ کیا جسمانی اور کیا روحانی ہر دو لحاظ سے اس دنیا میں اس کی زندگی ختم ہو جاتی ہے۔اس قسم کے انسان اور اس کی زندگی کے انجام کے متعلق اللہ تعالیٰ نے سورہ قمر میں فرمایا ہے کہ جب لوگوں نے ہمارے رسولوں کا انکار کیا اور ان کے مقابلہ پر کھڑے ہو گئے اور اس طرح انہوں نے ہماری ناراضگی مول لی تو دنیوی لحاظ سے ہم نے ان کو كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ (القمر :۳۲) یعنی ان سوکھی ہوئی ٹہنیوں کی طرح بنا دیا جن سے ایک باڑ بنانے والا باڑ بناتا ہے اور جن کے اندر کوئی زندگی نہیں ہوتی۔شیم کے معنے ٹوٹی ہوئی یا توڑی ہوئی چیز کے ہوتے ہیں مثلاً گندم کے متعلق کہا جائے تو یہ بُھو سے کی شکل میں ہوگی اور اگر یہ لفظ درختوں کے متعلق استعمال ہو تو ایسے درخت کو بھی ہم هَشِیم کہیں گے جو جڑوں سے نکل کر خشک ہو گیا ہو اور زندگی کی کوئی رمق اس کے اندر باقی نہ ہو اور ان سوکھی ہوئی ٹہنیوں کو بھی ہم ھشیم ہی کہیں گے جو خواہ ہمیں درخت پر نظر آئیں خواہ وہ درخت سے کٹ کر الگ ہوگئی ہوں خود ٹوٹ کر علیحدہ ہو گئی ہوں یا کسی توڑنے والے نے ان کو توڑ دیا ہو۔پس خشک ٹہنیوں کو عربی زبان میں ھشیم کہتے ہیں اسی لئے عربی میں جب تَهَشَمَ الشَّجَرُ کہیں تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ درخت سوکھ کر گر گیا غرض سورۃ قمر میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ جس طرح وہ اپنی حکمت کا ملہ سے انسان کو سبق دینے کے لئے درختوں کی ٹہنیوں یا خود درختوں سے اُن کی زندگی کو چھین لیتا ہے اسی طرح وہ انبیاء علیہم السلام کے منکرین پر اپنا عذاب