خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 398 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 398

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۹۸ خطبہ جمعہ ۷ /دسمبر ۱۹۷۳ء یا ہمارے وہ افراد جن کی آمد موجودہ گرانی کی وجہ سے کچھ بڑھ گئی ہے وہ اسی نسبت سے مالی قربانی بھی زیادہ دیں اور جو معقول گزارا ہونا چاہیے کہ وہ بھوکے اور ننگے نہ رہیں اس کے مطابق ان کو گزارا ملنا چاہیے اور اتنی آمد ان کی ہونی چاہیے۔اس وقت میں جلسہ سالانہ کی بات کر رہا ہوں۔جلسہ سالانہ کا ایک بجٹ ہے۔جلسہ سالانہ کی ایک آمد ہے۔آمد ہمیشہ بجٹ سے کم رہتی ہے۔جماعت لازمی چندہ جات یعنی چندہ عام جو سولہواں حصہ آمد کا ہے اور حصہ آمد یعنی چندہ وصیت کی طرف زیادہ توجہ دیتی ہے اور اس لازمی چندہ کو جو ویسا ہی لازمی ہے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اس کی اتنی ضرورت نہیں اب تو مہنگائی نے زیادہ ضرورت پیدا کر دی ہے اس کا احساس بڑا شدید ہو گیا ہے۔پس جلسہ سالانہ کے مہمانوں کو تکلیف سے بچانے کے لئے اور یہ سارا خرچ پورا کرنے کے لئے پیسہ ہونا چاہیے۔اب یہ حال ہے کہ یہ ہمارا جلسہ گاہ جو سامنے ہے اس کی تعمیر نہیں ہو رہی کیونکہ پہلے ساری جلسہ گاہ پر خرچ کے لئے ہمارا بجٹ دس پندرہ ہزار روپے ہیں اور اب اینٹ کی قیمت اتنی بڑھ گئی ہے کہ میرا خیال ہے کہ وہ ۲۵۔۳۰ ہزار روپے یا شاید اس سے بھی زائد صرف اینٹ کا خرچ ہے۔بہر حال جلسہ گاہ کا خرچ پہلے سے کہیں زیادہ ہو گیا ہے گو جلسہ سالانہ کے دوسرے نظام سے یہ نظام قدرے مختلف ہے لیکن اس کا خرچ بھی بڑھ گیا۔پس اگر مجبوراً جماعت کے اخراجات بڑھانے پڑے اور جماعت اس کا مطالبہ کرے کہ ایسے مخلص کو بھرتی کرو جو آدھا پیٹ بھر کر بھی یہاں کام کر سکیں اور اب اگر ان کی پچھتر فی صد ضرورتیں پوری ہوئی ہیں تو پھر صرف پچاس فیصد پوری ہوں تب بھی وہ یہاں کام کریں تو ٹھیک ہے ایسے مخلصین پیدا کر و جماعت ان کو لے لے گی۔یا یہ ہے کہ جو کم از کم ہم گزارا دے رہے ہیں اتنا تو بہر حال لے کر کام کرنا چاہیے یہاں زید اور بکر کا سوال نہیں۔یہ جماعت احمدیہ پر اجتماعی ذمہ داری ہے کہ جن سے وہ کام لیتی ہے ان کو کم سے کم ضرورت پوری کرنے کے لئے رقم گزارے کے طور پر دے اور جو کام کرنے والے ہیں ان پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بشاشت اور اخلاص کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت چوکس اور بیدار رہ کر خدمتِ سلسلہ پر خرچ کریں جو