خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 399 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 399

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۹۹ خطبہ جمعہ ۷ /دسمبر ۱۹۷۳ء بعض دفعہ وہ نہیں کرتے بہر حال دونوں طرف سے یہ ذمہ داریاں ہیں۔جلسہ سالانہ کے خرچ میں ایک لاکھ بتیس ہزار کا یہ اضافہ اور دوسرا پہلے کا بجٹ جو مجھے صحیح یاد نہیں وہ بھی کافی ہے۔یہ شاید پونے دولاکھ کے قریب خرچ بڑھ جائے گا۔اتنی آمد بھی ہونی چاہیے جلسہ سالانہ کا جو تشخیص شدہ بجٹ ہے اس کے مطابق ایک تو جماعت کو ادا کرنا چاہیے دوسرے جو زمیندار جماعتیں ہیں ان کو خاص طور پر یہ سوچنا چاہیے کہ چونکہ اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ان میں وہ اشیاء بھی ہیں جنہیں وہ پیدا کرتے ہیں اور جس اضافہ کے نتیجہ میں ان کی آمد بڑھ گئی ہے اس میں وہ خدا تعالیٰ کے کاموں کو چلانے کے لئے پہلے سے زیادہ قربانی دیں زیادہ قربانی بظا ہر نظر آئے گی لیکن نسبت وہ وہی قائم رکھیں۔جتنی ان کی پہلے آمد تھی اور جو نسبت اس آمد کے اعتبار سے مالی قربانی کی انہوں نے مقرر کر رکھی تھی اسی نسبت سے آمد کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ اب دیں تو اس سے جماعت کو زیادہ چندہ حاصل ہو جائے گا۔آمد بڑھ جائے گی۔ان کی قربانیاں کمیت کے لحاظ سے تو بڑھ جائیں گی لیکن کیفیت کے لحاظ سے ان کی قربانی تو نہیں بڑھے گی کیونکہ پہلے اگر وہ آمد کا چھ فیصد یا ۱۰ فیصد دیتے تھے تو اب بھی یہی نسبت رہے گی لیکن اس وقت کے لئے جب تک نئی فکسیشن (Fixation) نہیں ہو جاتی انسان مخلص ہونے کے باوجود عدم توجہ کے نتیجہ میں اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برت رہا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو معاف فرمائے اور اس طرف توجہ کرنے کی توفیق عطا کرئے۔بہر حال جلسہ کے اخراجات بڑھ گئے ہیں اور اس کے لئے ایک تو ہمیں فوری طور پر عملی قدم اس جلسہ پر اٹھانا چاہیے کہ کوئی ضیاع نہیں ہونا چاہیے جو گھروں میں کھانا لانے والے ہیں یا جو اجتماعی قیامگاہوں میں کھانا کھلانے کے منتظمین ہیں وہ بڑی احتیاط کریں۔پھر یہ بھی ضروری ہے کہ جو ٹکڑے بچیں ان کو بھی سنبھال کر رکھیں۔پرسوں مجھے باہر سے ایک دوست کا خط آیا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں آ رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ جلسہ کے دنوں میں بہت سے فقیروں نے روٹیوں کی بوریاں اٹھائی ہوئی تھیں اور معلوم ہوتا ہے کہ اس دوست نے رک کر جائزہ لیا ہو گا وہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ بالکل ثابت روٹی جو کہیں استعمال ہی نہیں ہوئی اس کے پاس ہے وہ تو ضائع ہوگئی انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ کسی وقت کسی اجتماعی قیام گاہ میں سوروٹی