خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 397
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۹۷ خطبہ جمعہ ۷ /دسمبر ۱۹۷۳ء نرخ بڑھائے ہیں اس نسبت سے زمیندار کو فائدہ نہیں پہنچا لیکن فائدہ پہنچا ضرور ہے خواہ نسبت کم ہے اور حکومت کی یہ بڑی سخت غفلت ہے کہ گندم کی قیمت تو مقرر کرتی ہے لیکن ”جھونے“ (یعنی مونجی ) کی قیمت مقرر نہیں کی جاتی۔ایک زمیندار تو جھونا یعنی مونجی پیدا کرتا ہے وہ بغیر چھلکوں کے چاول پیدا نہیں کرتا۔اس کی زمین سے چھٹڑے چھڑائے چاول نہیں نکلتے کہ وہ بکنے کے لئے بازار میں چلے جائیں۔ان کے اوپر چھلکا ہوتا ہے جس کو ” پھک“ کہتے ہیں اور یہ عجیب بات ہے کہ مشین سے نکل کر چاول جو شکل اختیار کرتا ہے اس کی قیمت مقرر کی جاتی ہے۔اب چاول کی قیمت بیالیس روپے سے باسٹھ روپے من تک چلی گئی ہے۔بیس روپے بڑھ گئے اور یہ قیمت حکومت نے یہ کہہ کر بڑھائی کہ زمیندار کو اس سے فائدہ ہوگا لیکن بیچ میں جو کارخانہ دار ایک واسطہ آ جاتا ہے اس نے کہا کہ پہلے ہمیں کچھ فی صد کھلی مارکیٹ کے لئے ملنے تھے اب نہیں مل رہے اس لئے ہم جھونے کی قیمت زیادہ نہیں بڑھائیں گے۔چنانچہ جھونے کی قیمت جس نسبت سے بڑھنی چاہیے تھی وہ نہیں بڑھی حالانکہ حکومت کو چاول کی قیمت اپنی خرید کے لئے مقرر کرنی چاہیے حکومت زیادہ تر باسمتی چاول خریدتی ہے۔تو باسمتی چاول جو اپنی اصل شکل میں ہے (یعنی چھڑائی کے بعد اس کی ) قیمت خرید کا فائدہ حکومت کو ہوتا ہے زمیندار کو نہیں۔حکومت نے اپنا فائدہ جو حاصل کرنا ہے اس کے لئے چاول کی قیمت مقرر کرنی چاہیے اور زمیندار کو جو فائدہ پہنچانا ہے تو اس کے لئے جھونے کی قیمت مقرر کرنی چاہیے۔اور جھونے کی قیمت مقرر کر کے مل والوں سے باہمی مشورہ کے ساتھ انہیں مناسب نفع دے کر ان سے چاول خریدنا چاہیے لیکن زمیندار کو بیچ میں سے چھوڑ دینا اور فرض کرنا کہ زمیندار کے ایکڑوں میں چاول پیدا ہوتا ہے یہ تو نادانی ہے۔زمیندار کے ایکڑ جھونا پیدا کرتے ہیں یعنی چھلکے سمیت چاول اُگاتے ہیں اور اس کی قیمت مقرر نہیں کی جاتی۔بہر حال زمیندار کو اتنا فائدہ نہیں ہوا جتنا کہا گیا تھا کہ ہم پہنچانا چاہتے ہیں تا ہم اس کو فائدہ ہوا۔ضرور ہے اس لئے صدرانجمن اور جماعت احمدیہ کے دوسرے اداروں نے اپنے کارکنان کے گزاروں میں کچھ تھوڑا سا اضافہ کیا ہے۔اس کو پورا کرنے کے لئے یا ہم اپنے کارکنوں کی تعداد کم کریں اور ان کی تنخواہوں کو باقیوں پر بانٹ دیں تا کہ ان کو تکلیف نہ ہو