خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 336 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 336

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۳۶ خطبہ جمعہ ۲ نومبر ۱۹۷۳ء شَرَابٌ (النحل : ٧٠ ) کہ ان کے اندر سے شہر نکلتا ہے اب تحقیق نے تو یہ ثابت کر دیا کہ پھول کے نیکٹر سے یہ شہد کی مکھی شہد بناتی ہے۔نئے علم نے ایک نیا اعتراض پیدا کر دیا اور اللہ تعالیٰ کا قادرا نہ تصرف ہے کبھی وہ خود سائنسدانوں کو سائنسدانوں سے ہی جواب دلواتا ہے اور مزید تحقیق سے انہیں جواب مل جاتا ہے اور وہ تحقیق ہمارے حق میں مفید ہوتی ہے۔ہمیں خدا تعالیٰ نے عقل دی ہم نے بھی سوچا اور پڑھا اور ان ہی سائنسدانوں نے چند سال کے بعد یہ کہا کہ شہد کی مکھی تقریباً ۵۰ فیصد اپنے جسم کے Glands ( غدود ) میں سے سیکریشن (Seekeration) یعنی غدود کا رس نکال کر شہد کے اندر ملاتی ہے۔پھر انہوں نے یہ کہا کہ جو باہر سے خادم مکھی نیکٹر (Nector) کاذرا سا جزو لے کر آتی ہے تو چھتے میں رہنے والی مکھیاں زبان باہر نکالتی ہیں تو خادم مکھیاں اس کے اوپر رکھ دیتی ہیں۔۔۔اور چھتے میں رہنے والی مکھی زبان کو نکالنے اور اندر لے جانے کی حرکت ہزاروں ہزار مرتبہ کرتی ہے اور اس طرح پانی کو خشک کر کے شہد کو قوام کی شکل دیتی ہے۔وہ بھی اس کے منہ میں سے نکلا ہے یعنی جو منہ کے اندر گیا اس کی شکل اور تھی اور جو منہ میں سے نکلا اس کی شکل اور تھی جو منہ میں گیا وہ پانی سے مشابہ تھا اور جو باہر نکلا اس کی شکل زیادہ تر شیرے سے ملتی ہے۔دو مختلف شکلیں ہوئیں اور پھر قریباً ۵۰ فیصد اپنے جسم کے حصے ملا دیئے اب یہ نئی تحقیق نے علم دیا۔جو اسلام سے پیار کرنے والے اور جن کو اللہ تعالیٰ نے نو را ایمان دیا ہوا تھا انہوں نے کہا تمہارا اعتراض غلط ہے کیونکہ اصل کیفیت یہ ہے کہ جس چیز پر تم اعتراض کر رہے ہو وہ حقیقت شے نہیں بلکہ حقیقت شے کا نصف ہے جب دو کو ملا دو گے اس کو پورا کر دو گے تو اعتراض خود ہی ساقط ہو جائے گا۔پس چونکہ انسانی زندگی میں ایک حرکت ہے وہ ایک جگہ نہیں کھڑی ہوئی۔زمانہ کروٹ لیتا ہے اور زمانہ جدید بن جاتا ہے۔حال ماضی بن جاتا ہے اور جو مستقبل ہے وہ حال کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور ایک جدید زمانہ بن جاتا ہے اور ان انقلابات کے نتیجہ میں بہت سے خیالات میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور جو مخالف حرکت ہے وہ اسلام پر نئے اعتراضات پیدا کرتی ہے۔جب ہر زمانہ اسلام پر نئے اعتراضات کرتا چلا آیا ہے اور کرتا چلا جائے گا تو ضروری ہوا کہ قرآنِ کریم کے