خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 335 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 335

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۳۵ خطبہ جمعہ ۲ نومبر ۱۹۷۳ء وسعت اور رفعت کی طرف ایک مسلسل حرکت حصول علم کی جو حرکت ہے اس میں بھی تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ایک ہی جگہ تو انسان نہیں کھڑا رہا۔علمی میدان میں جس جگہ وہ آج سے پچاس سال پہلے کھڑا تھا اس جگہ آج بھی نہیں کھڑا ہوا۔علمی میدان میں انسان ہمیں اس جگہ بھی کھڑا نظر نہیں آتا جہاں وہ ایک سال پہلے کھڑا تھا علمی میدان میں انسان ہمیں اس جگہ بھی کھڑا نظر نہیں آتا جہاں وہ ایک مہینہ پہلے تھا علمی میدان میں انسان بعض لحاظ سے ہمیں اس جگہ کھڑا ہوا بھی نظر نہیں آتا جہاں کل وہ کھڑا تھا ایک حرکت ہے جس میں تسلسل پایا جاتا ہے۔علمی تحقیق ہے کہیں تحقیق ہورہی ہے کہیں اس کے نتائج نکل رہے اور جو سائنسدان اور عالم ہیں ان سب کا تعلق اسلام سے تو نہیں ان سب کو اسلام سے پیار تو نہیں ایسے بھی ہیں جو دہریت سے پیار کرتے ہیں ایسے بھی ہیں جو مشرک ہیں۔ایسے بھی ہیں جو عیسائیت سے پیار کرتے ہیں۔ایسے بھی ہیں جو یہودیت سے پیار کرنے والے ہیں۔جو یورپ سے پیار کرنے والے ہیں۔ایسے بھی ہیں جو امریکہ سے پیار کرنے والے ہیں۔ایسے بھی ہیں جو ہندوستان سے پیار کرنے والے ہیں جو جاپان اور چین اور جو دوسرے جزائر ہیں ان سے پیار کرنے والے ہیں اور ان مختلف ممالک کے حالات چونکہ مختلف ہیں اور ان لوگوں کا پیار کا تعلق اسلام سے نہیں اس لئے اپنی علمی تحقیق کے دوران بعض ایسے خیالات ان کے ذہن میں ابھرتے ہیں جو وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام پر کاری ضرب لگانے والے ہیں اور وہ اس قسم کے اعتراضات کر دیتے ہیں یا غیر مذاہب کے جو عالم ہیں پنڈت ہیں۔پادری ہیں یہودی علماء ہیں وہ نئی تحقیقات کے نتیجہ میں نئے اعتراضات اسلام پر کرتے ہیں۔مثلاً آج سے تیس چالیس سال میں بعض سائنسدانوں کو شہد کی مکھی اور اس کے حالات شہد وغیرہ کے متعلق دلچسپی پیدا ہوئی۔انہوں نے تحقیق کرنی شروع کی وہ تحقیق جب کی گئی تو ایک وقت میں انہوں نے کہا کہ کبھی پھول سے اس لیتی ہے یعنی شہد جس چیز سے بنتا ہے اس وقت اس کا قوام نہیں ہوتا پھول کے اندر ایک پانی کا قطرہ یا قطرہ کا کچھ حصہ ہوتا ہے۔اس کے اندر مٹھاس بھی ہوتی ہے اور خوشبو بھی۔اس کو انگریزی میں نیکٹر (Nector) کہتے ہیں۔پادریوں کے پاس جب یہ علمی تحقیق آئی تو انہوں نے کہا کہ قرآن تو کہتا تھا کہ شہد کی مکھی میں سے شہر نکلتا ہے۔يَخْرُجُ مِنْ بُطُونِهَا