خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 334
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۳۴ خطبہ جمعہ ۲ نومبر ۱۹۷۳ء ہمیں ضرورت نہ ہو بلکہ ان دو وجوہ کی بنا پر ہمیں آج بھی ان کی ضرورت ہے ایک اس لئے کہ آج سے ہزار سال پہلے جو اعتراضات اسلام پر کئے گئے تھے ان میں سے بہت سے اعتراضات اسلام پر آج بھی کئے جا رہے ہیں۔پس ان کے جوابات پہلے بزرگوں کو خدا تعالیٰ نے سکھائے اور کتاب مبین میں وہ موجود ہیں ہمیں ان کی بھی ضرورت ہے۔اس لئے ہمیں کتاب مبین کو بھی پڑھنا چاہیے اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔پھر آج سے پانچ سوسال پہلے یا ہزار سال پہلے نوع انسانی کو یا نوع انسانی کے بعض حصوں کو جن مشکلات اور الجھنوں کا سامنا تھا آج بھی نوع انسانی کے بعض گروہوں کو بعض قوموں کو بعض مقامات پر اس قسم کے بعض مسائل اور الجھنوں کا سامنا ہے اور قرآن کریم نے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے اور الجھنوں کو دور کرنے کے لئے ہم سے پہلے بزرگوں کو قرآنِ کریم کی تعلیم بتادی تھی کہ قرآن کریم کی تعلیم اور ہدایت ان مسائل کو اس رنگ میں حل کرتی ہے اور اس میں نوع انسانی کا فائدہ ہے۔اس لحاظ سے بھی کتاب مبین کا جاننا ہمارے لئے ضروری ہے۔دوسرا پہلو قرآنِ عظیم کا اس کا کتاب مکنون ہونا ہے یعنی وہ باطنی اسرار جو قرآنِ عظیم اس کتاب عظیم اور اس کامل اور مکمل شریعت میں پائے جاتے ہیں وہ بطون ہر نئے زمانہ میں نئے زمانہ کے نئے اعتراضات کو دور کرنے کے لئے موجود ہیں اور نئے زمانہ کی نئی الجھنوں کو سلجھانے کے لئے اس کے اندر تعلیم موجود ہے اور اس کے متعلق قرآن عظیم نے نوع انسانی کے سامنے یہ اعلان کیا کہ یہ کتاب مکنون میں پوشیدہ ہیں اسرار ہیں۔لَا يَمَسُّةُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة : ۸۰) سوائے اللہ تعالیٰ کے مطہر بندوں کے جن کا معلم معلم حقیقی خود بن جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ خود ان کو علوم قرآنی سکھا تا اور نئے زمانہ کی دونوں ضرورتوں نئے اعتراضات کا دور کرنا اور نئی الجھنوں کا سلجھانا ) کو پورا کرتا ہے۔اس پہلو سے چار باتیں بنیادی طور پر ہمارے سامنے آتی ہیں اور چوتھی کا آج کے زمانہ سے تعلق ہے۔انسانی زندگی ایک جگہ ٹھہری ہوئی نہیں۔اس میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے اور جوں جوں انسان کے اندر تبدیلی ہر لحاظ سے پیدا ہوتی ہے اس کے ایک پہلو کو ہم لے لیتے ہیں یعنی علم انسانی میں