خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 266 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 266

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۶۶ خطبه جمعه ۲۸ ستمبر ۱۹۷۳ء اس کے مختلف پہلو آہستہ آہستہ بتاتا چلا جاؤں گا ) پس ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اس خطہ ارض اور اس ملک میں اس قسم کی ایک زبر دست تباہی آئے۔سیلاب کے پانیوں نے بعض علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لیا اور بعض کو نہیں لیا۔لیکن اس کے نتیجہ میں جو اقتصادی بے چینی اور بحران پیدا ہوا ہے وہ اگر چہ نظر آنے والی لہریں تو نہیں ہیں لیکن درحقیقت بڑے گہرے گھاؤ کرنے والی لہریں ہیں۔ہماری ساری اقتصادیات پر سیلاب کی زد پڑی ہے۔اقتصادی ترقیات کے سارے منصوبے سیلابوں کی زد میں آئے ہیں جہاں سیلاب نہیں آئے وہ علاقے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں مثلاً کراچی ہے۔کراچی شہر کے اندر سیلاب کا پانی نہیں آیا۔بارشوں کا پانی بھر گیا تھا مگر جلدی نکل گیا لیکن جہاں سیلاب آیا مثلاً جھنگ میں بڑا خطرناک سیلاب آیا۔چنانچہ جس طرح جھنگ میں اشیائے ضرورت بہت مہنگی ہو گئیں اسی طرح کراچی میں بھی مہنگی ہو گئیں حالانکہ وہاں سیلاب نہیں تھا لیکن کراچی میں سیلاب کے اثرات پہنچ گئے اور وہ ایسے اثرات تھے جو تکلیف دینے والے اور دُکھ پہنچانے والے تھے۔قرآنِ کریم کہتا ہے کہ یہ دُکھ اور یہ تکلیف اللہ تعالیٰ کے منشا اور اس کے اذن اور اس کے حکم اور اس کے چابی لگانے سے آتی ہے یہ ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا۔اس کے علاوہ قرآنِ کریم نے اس قسم کے حوادثات کی مصلحتیں بتائی ہیں جو سب خدائی منشا کے مطابق آتے ہیں۔چنانچہ ایک مصلحت یہ بتائی ہے کہ جب خدا تعالیٰ اپنی توحید کے قیام کے لئے کسی بندہ کو اس دنیا میں بھیجتا ہے یا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد غلبہ اسلام کے لئے کسی کو مامور کر کے بھیجتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی انبیاء آئے اور آپ سب کے بادشاہ اور سرتاج بن کر تشریف لائے۔غرض جب دنیا خدائے واحد اور اس کے رسول اور مامور کی طرف توجہ نہیں کرتی تو اللہ تعالی حوادث کی چابیوں کو حرکت میں لاتا ہے اور اس قسم کے حالات پیدا کر دیتا ہے ایک اور مصلحت مثلاً یہ ہوتی ہے کہ اس طرح سے لوگوں کو اچھی طرح سے ہلایا جائے اور یہ اس لئے نہیں ہوتا کہ اُن کو ابدی ہلاکت ملے بلکہ اس لئے ہوتا ہے کہ وہ ابدی لعنت سے خود کو محفوظ کرنے کی طرف متوجہ ہوں۔پھر ایک مصلحت یہ بتائی کہ وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ (البقرة : ۱۵۶) جس