خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 265 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 265

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۶۵ خطبه جمعه ۲۸ ستمبر ۱۹۷۳ء علم میں ہے۔اجزائے ارضی کے ہیرا بننے کے لئے اللہ تعالیٰ نے گویا اپنی قدرت کی چابی لگائی ہے۔پس مستقبل کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز میں ابھی حیز وجود میں نہیں آئیں مثلاً ایسی تمام بشارتیں جو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ آپ کے طفیل مہدی معہود علیہ السلام کے ذریعہ جماعت احمدیہ اور نوع انسانی کو دی گئیں جو ابھی تک پوری نہیں ہوئیں اور آئندہ پوری ہونے والی ہیں اُن کا آج کوئی وجود نہیں ہے لیکن خدا تعالیٰ کی قدرت کی جو چابی ہے وہ ہرٹی کا وجود پیدا کرنے والی ہے گویا مفاتح الغیب کے ایک معنی یہ ہیں کہ جب تک خدا تعالی کنجی نہ لگائے کوئی چیز عدم سے جو ایک غیب کی کیفیت ہے وجود میں جو حال کی کیفیت ہے تبدیل نہیں ہوتی۔اس آیہ کریمہ میں ( میں اس کی پوری تفسیر اس وقت بیان نہیں کروں گا ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ درخت کا کوئی پتہ نہیں گرتا جب تک کہ اس کے علم میں نہ ہو غیب کے ہر دو معنی سے ان کا تعلق ہے۔جب تک اللہ تعالیٰ کا حکم آسمان سے نہ آجائے اس وقت تک کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز مثلاً درخت کے پتے کا اپنی شاخ سے گر جانا یا بڑی سے بڑی چیز مثلاً سیلابوں کا آنا جو ایک بڑے علاقہ کو تہ و بالا کر کے انتہائی تباہی کے نظارے ہمارے سامنے رکھتے ہیں یہ خدا تعالیٰ کے منشا اور اس کے حکم اور علم کے بغیر نہیں ہوتا۔یہ ایک حقیقت ہے جس کو ایک مسلمان فراموش نہیں کر سکتا۔ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ پانی کی یہ طوفانی لہریں اور یہ سیلاب اللہ تعالیٰ سے بغاوت کر کے نہیں آئے کیونکہ عناصر خدا سے بغاوت کی طاقت نہیں رکھتے اس لئے یہ کہنا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ نے چاہا۔اُس نے اپنی مفتاح لگائی ( کیونکہ سیلاب کی شکل میں پانی موجود نہیں تھا ) اس کا حکم نازل ہوا اور پانی کے قطروں کا اس قدر بپھرا ہوا اجماع ہو گیا جس نے بڑے بڑے اونچے درختوں کو جن کی جڑیں اُن کی لمبائی کے مطابق زمین کے اندر گڑھی ہوئی تھیں اُن کو جڑوں سے اکھاڑ کر پھینک دیا۔ایک دوست نے مجھے بتایا کہ بعض جگہوں پر تین تین منزلہ مکان جب طوفانی لہروں کی زد میں آئے تو اس طرح بہ گئے جس طرح کوئی ٹوٹی ہوئی شاخ پانی میں بہہ جاتی ہے تاہم اس قسم کا جو خطر ناک سیلاب آیا ہے خدا سے باغی ہو کر نہیں آیا۔ہوسکتا ہے انسان کی بغاوت کو دُور کرنے کے لئے یا اُن کو کوئی سبق دینے کے لئے آیا ہو۔(اس وقت میں یہ نہیں بتا رہا میں اپنا مضمون اور