خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 267 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 267

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۶۷ خطبه جمعه ۲۸ ستمبر ۱۹۷۳ء وقت اس قسم کے حالات پیدا ہوں تو ان کے نتیجہ میں لوگوں کی بھلائی اور روحانی ترقیات کے سامان پیدا کرنا مقصود ہوتا ہے اس واسطے جو ذمہ داریاں ” امتحان ڈالتے ہیں یا جو ذمہ داریاں ابتلا پیدا کرتے ہیں اگر انسان ان ذمہ داریوں کو نبا ہے تو اس کے نتیجہ میں یہ خوشخبری ملتی ہے۔وَبَشِّرِ الصُّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ - (البقرۃ:۱۵۷،۱۵۶) غرض اس قسم کے امتحان اور ابتلا کے نتیجہ میں اللہ کے عاجز بندے اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو اور بھی زیادہ پختہ اور مضبوط بنا لیتے ہیں اور ان میں کوئی بعد اور جدائی باقی نہیں رہتی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ میں قُرب کا یہی مقام بیان ہوا ہے۔یعنی دوری کے جو امکانات تھے اب رجوع الیہ کر کے ہم اس دوری کو اس بعد کو قرب میں تبدیل کریں گے۔بہر حال حوادث خواہ لوگوں کو جھنجھوڑنے کے لئے آئیں یا روحانی ترقیات کے لئے ہوں ان کی وجہ سے انسان پر بہت سی ذمہ داریاں آپڑتی ہیں۔اس لئے اصل بحث یہ نہیں کہ ایسا کیوں ہوا؟ اصل چیز تو یہ ہے کہ جو مصلحتیں قرآن کریم نے بیان کی ہیں ان مصلحتوں کے مطابق ہم اپنی زندگیوں میں تبدیلی پیدا کرتے ہیں یا نہیں۔اگر ہم وہ تبدیلی پیدا کر لیتے ہیں۔اگر ہم الہی اشاروں کو سمجھ لیتے ہیں اور الہی منشا کے مطابق اپنے ذہنوں میں اور اپنے خیالات میں اور اپنے عقائد میں اور اپنے رجحانات میں اور اپنی عادات میں تبدیلی پیدا کر لیتے ہیں تو وہ مصیبت جو بہت لمبے زمانہ پر پھیلی نہیں ہوتی اس کا اثر باقی نہیں رہتا بلکہ محدود اور مفید بن جاتا ہے۔پس امتحان اور ابتلا میں کامیاب ہونے والے شخص کے چہرے پر اسی طرح بشاشت کھیلنے لگتی ہے اور کوفت دور ہو جاتی ہے جس طرح اچھا نتیجہ نکل آنے پر راتوں کو جاگنے والے طالب علم کی کوفت دور ہو جاتی ہے۔چہرے پر بشاشت اور سُرخی آجاتی ہے دن رات پڑھتے رہنے کی وجہ سے آنکھوں میں جو گڑھے پڑ جاتے ہیں اور کوفت کے آثار چہرے پر نمودار ہوتے ہیں۔وہ سب دُور ہو جاتے ہیں۔اس کی بجائے چہرے پر بشاشت کھیل رہی ہوتی ہے اور خوشیاں انگ انگ سے چشمہ کے پانی کی طرح بہہ کر باہر نکل رہی ہوتی ہے۔امتحان اور ابتلاؤں کی کچھ اور مصلحتیں