خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 246
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۴۶ خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۷۳ء اس کا پتہ چل گیا تو پھر وہ بھی اس پر عمل شروع کر دیں گے۔یہ جذ بہ جو صحابہ رضوان اللہ علیہم کے سینوں میں پیدا ہوا وہی جذبہ خدا تعالیٰ کی ہر پسندیدہ اور چنیدہ جماعت میں پیدا ہونا چاہیے۔دنیا کی کسی نعمت کے نتیجے میں کوئی قربانی دینی پڑے تو ہم دیں گے لیکن قربانی کی ایک راہ بند ہو جائے تو ہم دوسری راہ تلاش کر لیں گے تا خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی بعض رحمتوں سے محروم نہ ہو جائیں۔اب آپ یہ تو کر نہیں سکتے کہ خواہ مخواہ کسی سے جھگڑا کر کے چانٹے کھائیں۔آپ لوگ تو اس قسم کی ایذا دینے والی باتیں نہیں سن پاتے جو ہمیں سننی پڑتی ہیں۔جب آپ کے کان میں وہ باتیں ہی نہیں پڑیں گی تو کسی رد عمل کا سوال ہی نہیں پیدا ہوگا۔اس لئے میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ چونکہ ثواب کے حصول کی بعض راہیں آپ پر بند ہیں اس لئے جو راہیں آپ پر کھلی ہیں ان میں اپنے ایثار اور قربانی میں شدت اختیار کریں اور اپنے ماحول کے مطابق قربانیوں میں آگے نکلنے کی کوشش کریں۔دنیا کی فضا ہم درست کر دیں اور دنیا کو یہ بنیادی سبق سکھا دیں کہ اسلام کا پیغام محبت اور اخوت کی بنیادوں پر کھڑا ہوا ہے۔نفرت، حقارت، ظلم، ناانصافی اور دکھ دینے کی بنیادوں پر کھر انہیں ہوا۔قرآن کریم کو ہم نے شروع سے آخر تک پڑھا کہیں بھی نفرت ،حقارت ، ناانصافی ، دکھ دینے اور زبان درازی کی تعلیم نہیں پائی بلکہ یہ پڑھا کہ اللہ تعالیٰ ظالم اور بے انصاف سے پیار نہیں کرے گا۔خدا تعالیٰ کی محبت کے لئے پاک اور مطہر راستوں کو اختیار کرنا پڑے گا۔یہ پڑھا که صراط مستقیم خدا تعالیٰ سے ملاتی اور انسان اپنی کوششوں اور عمل کے ذریعے خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرتا چلا جاتا ہے تا وہ الضَّالِّينَ اور الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِم والے راستوں کو اپنے اوپر بند کر لے۔اسلام ہمارے لئے صراط مستقیم لے کر آیا ہے اور شریعت جو قیامت تک کے لئے ہے ایک ایسی شریعت جس میں اس قدر حسن ہے کہ انسان اس حسن کی چمک برداشت نہیں کر سکتا۔جس طرح لوگ فریج (Fridge) میں بہت سا کھانا اکٹھا رکھ لیتے ہیں لیکن کھانا رکھ لینے سے پیٹ نہیں بھرتا۔پیٹ تو اس وقت بھرے گا جب کھانے کو صحیح طریق پر پکایا جائے گا اور پھر کھایا جائے گا۔صرف فریج کو خوراک سے بھر لینا کافی نہیں۔