خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 245
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۴۵ خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۷۳ء مومن دنیا کماتا تو ہے لیکن دنیا کی بادشاہت قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔وہ دنیا کے مال کو اس کی دولت کو ، مذہب کا خادم بنا کر حاصل کرنا چاہتا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی دیکھیں۔یہ تو نہیں کہ آپ فقیر تھے۔دنیا کی دولت اللہ تعالیٰ نے آپ کے قدموں میں لاکر رکھ دی اور وہ قدم جواللہ کی یاد میں محو تھے انہوں نے اس دولت کو ٹھو کر مار کر پھینک دیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک شعر میں کہا ہے کہ تیرے پیارے کو دنیا جہان مل جاتا ہے لیکن وہ اس جہان کو لیکر کرے کیا ؟ جس قدر دنیاوی نعماء میں وسعت ہوگی اتنے ہی زیادہ عذاب کے مواقع میسر آنے کا خطرہ ہوگا۔اسی نسبت سے انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور فضلوں کو جذب کرنے کے مواقع بھی اپنے لئے پیدا کرسکتا ہے اور خدا تعالیٰ کی نعمتوں سے زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔پھر آپ کی کوششیں، قربانیاں، ایثار، دنیا سے بے رغبتی ، خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا اور خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر لینا یہ آپ کا اپنا کام ہے۔آپ جس دنیا میں رہ رہے ہیں اس وقت انگلستان ہے یا بعض دوسرے ممالک ہیں جہاں آپ کو ثواب کے بعض مواقع سے محروم رہنا پڑتا ہے مثلاً پاکستان میں بعض مخالف کھڑے ہو جاتے ہیں اور مارنا پیٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ابھی چند دن ہوئے بلوچستان میں احمدیوں پر گولی چلائی گئی جس سے ان کو عارضی طور پر بے گھر ہونا پڑا۔وہاں کی جماعت کے پریذیڈنٹ کی انگلی پر رائفل کی ایک گولی لگی۔اگر نیت یہ ہو کہ گولیوں کی بوچھاڑ میں ہم نے اپنے رب کی را ہوں کو تلاش کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جانا ہے تو انگلی کا معمولی زخم بھی شہیدوں میں شامل کر دیتا ہے۔اب جو صلہ ان لوگوں کو تکلیفیں اٹھا کر ملا آپ اس سے محروم ہیں۔ایک دفعہ بعض غرباء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ! غریب لوگ دوسروں جیسا اخلاص رکھتے ہیں۔دل میں خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی دینے کا ویسا ہی جذبہ ہے لیکن امراء کی قربانیوں میں ہماری قربانیوں کی نسبت زیادہ وسعت ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں ایک طریق بتا تا ہوں اس کو اختیار کرو پھر تمہیں اور ثواب ملے گا۔چنانچہ آپ نے ان کو ایک وظیفہ بتایا۔اس پر غرباء نے کہا کہ یا رسول اللہ ! اگر امیروں کو