خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 154 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 154

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۵۴ خطبہ جمعہ ۴ رمئی ۱۹۷۳ء کہنے کے مطابق ایک چھوٹا سا حصہ ہے گو یہ مبالغہ ہے لیکن یہ فعال رضا کا رلاکھوں تو ضرور ہیں۔میں آج ان لوگوں کو جو ۵۳ ء کی باتیں شروع کر دیتے ہیں ان لاکھوں احمدیوں کے متعلق ایک حقیقت بتا دینا چاہتا ہوں تا کہ ہم پر یہ الزام نہ رہے کہ ہمیں حقیقت حیات احمدی سے آگاہ نہیں کیا گیا میں ایسے لوگوں کوحضرت خالد بن ولید کے الفاظ میں بتا نا چاہتا ہوں کہیں تم دھو کے میں نہ رہو۔میں تمہیں یہ حقیقت بتا دیتا ہوں کہ جس قدر پیار تمہیں اس ورلی زندگی کے ساتھ اور اس دنیا کے عیش وعشرت کے ساتھ ہے میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اس سے بڑھ کر پیار احمدی مسلمان کو موت کے ساتھ ہے۔یہ الفاظ حقیقت پر مبنی اور بڑے پیارے الفاظ ہیں یہ ہمارے دل کی آواز ہیں۔پس انہی الفاظ میں میں آج اُن لوگوں کو جو ۵۳ء کی آڑ میں فتنہ وفساد بر پا کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں عاجزانہ طور پر سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ کسی غلط فہمی میں نہ رہنا۔جماعت احمدیہ کے وہ لاکھوں بالغ افراد جو پاکستان کے باشندے ہیں ( یہی حال ملک ملک بسنے والے احمدیوں کا ہے مگر اس وقت میں پاکستانی احمدیوں کا ذکر کر رہا ہوں ) ان کو خدا کی راہ میں موت سے ایسا ہی پیار ہے جیسا کہ ایک عاشق اپنے معشوق پر مستانہ وار قربان ہونے کو تیار کھڑا ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کے ان جان نثاروں کو موت سے جو پیار ہے وہ اُس پیار سے کہیں زیادہ ہے جتنا تمہیں اس دنیا کی زندگی اور اس کے عیش وعشرت اور آرام و آسائش سے پیار ہے لیکن ہمیں خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ پیار سے میرے بندوں کے دل جیتو۔اس لئے جب ہم تمہارے نعروں اور تمہاری گالیوں کے مقابلہ میں غصہ میں نہیں آتے تو یہ ہماری کمزوری کی دلیل نہیں بلکہ یہ خدا تعالیٰ کے حکم کی پیروی اور اس کی خاطر عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنے کی دلیل ہے۔پس جہاں ہمیں پیار سے لوگوں کے دل جیتنے کا حکم ہے وہاں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے أُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا (الحج:۴۰) جب ظلم انتہا کو پہنچ جائے تو قرآنِ کریم نے اپنی مدافعت کی اجازت دی ہے۔نیز قانون مملکی نے بھی خود حفاظتی کی اجازت دی ہے تاہم یہ کام تو حکومت کا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہر فرد بشر کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری حاکم وقت پر عائد کی ہے اس لئے ہم خاموش رہتے ہیں کہ حاکم وقت اپنی ذمہ داری کو نباہے گا لیکن اگر کسی وقت خدانخواستہ حاکم وقت نہ رہے