خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 155 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 155

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۵۵ خطبہ جمعہ ۴ رمئی ۱۹۷۳ء ملک میں انار کی پھیل جائے اور حکومت وقت جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری اُٹھانے کے عملاً قابل نہ رہے اور ایک فانی فی اللہ مسلمان جس نے اپنے جذبات کو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کی خاطر قابو میں کیا ہوا تھا اس کے کان میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ پیاری آواز آئے وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے وَلِمَالِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ تیرے مال و دولت کی حفاظت کی ذمہ داری بھی تجھ پر ڈالی گئی ہے تو پھر اگر خدانخواستہ ہمارے ملک میں بدامنی اور لاقانونیت پھیل جائے تو تم دیکھو گے کہ تم اپنی زندگی اور مال و دولت سے جو پیار کرتے ہو ہر احمدی اُس سے زیادہ موت سے پیار کرتا ہے اس واسطے کہ یہ حقیقت ہر احمدی پر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس ورلی زندگی میں انسان کی زندگی ختم نہیں ہو جاتی۔موت زندگی کا خاتمہ نہیں ابدی زندگی کا ایک اہم موڑ ہے اور بس۔ہماری بڑی پھوپھی جان کہہ رہی تھیں ” یہاں آنکھ لگی وہاں آنکھ کھل گئی یہ ہے ہمارے نزدیک اس دنیا کی حقیقت جس سے لوگ بڑا پیار کرتے ہیں۔ہم تو اس دنیا سے پیار نہیں کرتے ہم مانتے ہیں کہ ہم بڑے کمزور انسان ہیں، خطا کار ہیں لیکن ہمارے رب نے ہمیں دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کے لئے آلہ کار بنایا ہے۔اس لئے اگر ہم اپنے گناہوں اور خطاؤں کے باوجود اپنی اس ذمہ داری کو نباہنے کے لئے قربانیاں دیتے رہے تو ہمیں یقین ہے کہ جب یہاں آنکھ بند کر کے وہاں آنکھ کھلے گی تو ہم اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی گود میں پائیں گے وہ اپنے فضل اور رحمت سے ہماری خطائیں معاف کر دے گا کیونکہ اُسی نے یہ فرمایا ہے لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا (الزمر:۵۴) ظاہر ہے جو لوگ اپنی زندگیوں کا ہر لحظہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے خرچ کرنے کی نیت رکھتے ، جذبہ رکھتے اور کوشش کرتے ہیں اگر ان کے کام میں غلطیاں رہ جائیں تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دیتا ہے۔پس میں احباب جماعت سے کہتا ہوں اور تنبیہ کرتا ہوں کہ تم نے فساد بر پا نہیں کرنا کیونکہ اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا فرمایا ہے وَاللهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ (المائدة : ۶۵) مگر اے حق کی مخالفت کرنے والو! تم فساد کر کے پھر گلہ کرتے ہو کہ خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت تمہیں کیوں حاصل نہیں ہوتی جب تمہارے مفسدانہ منصوبوں کے نتیجہ میں تمہیں خدا تعالیٰ کا پیار حاصل نہیں ہے تو پھر