خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 148 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 148

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۴۸ خطبہ جمعہ ۴ رمئی ۱۹۷۳ء اپنے ہی غلط معنی کرتے ہو تو پھر نزول مسیح کے عقیدہ کو مانتے ہوئے تم یہ حلف نہیں اُٹھا سکتے۔اس حلف میں یہ عبارت بھی ہے کہ ہم خدائے واحد ویگانہ پر ایمان لاتے ہیں۔اگر تم قبروں پر سجدہ کرتے ہو یا سجدہ کرنا جائز سمجھتے ہو تو پھر بھی تم یہ حلف نہیں اُٹھا سکتے۔پھر اس حلف میں یہ بھی ہے کہ ہم قرآنی احکام کو اپنی زندگیوں میں قابل عمل سمجھتے ہیں لیکن اگر تم احکام قرآنی کی پروا نہیں کرتے اور تم نے اپنی زندگی انوار قرآنی کے جلوؤں سے منور نہیں کر رکھی تو تم یہ حلف نہیں اُٹھا سکتے سوائے اس کے کہ اپنی قوم کے ساتھ بد دیانتی کرتے ہوئے اس حلف کو اٹھا لو تو اُٹھا لو اور کوئی صورت نظر نہیں آتی۔میں نے اس حلف نامہ کے الفاظ پر بڑا غور کیا ہے اور میں بالآخر اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ایک احمدی کے راستہ میں اس حلف کے اُٹھانے میں کوئی روک نہیں لیکن میں بآواز بلند دنیا کو یہ بتا دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ کسی احمدی کو بھی سیاست اور اقتدار سے کوئی سروکار نہیں ، کوئی پیار نہیں اور کوئی لگاؤ نہیں ہے۔ہم تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند جلیل مہدی معہود کو ماننے والے ہیں جس نے فرما یا تھا۔مجھ کو کیا ملکوں سے میرا ملک ہے سب سے جدا مجھ کو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوانِ یار ہمیں ان دنیوی تاجوں، ان مملکتوں ، ان حکومتوں اور ان بڑے بڑے عہدوں سے کوئی تعلق کوئی پیار نہیں ہے۔دنیا کی یہ عزتیں دنیا والوں کو مبارک ہوں اور خدا کرے کہ ہم درویشوں کے نصیب میں ہمیشہ رضوانِ یار کا تاج رہے۔پس آزاد کشمیر کی اسمبلی میں غلط کہا گیا یا غلط نتیجہ نکالا گیا کہ حلف کے الفاظ بتاتے ہیں کہ احمدی غیر مسلم ہیں۔میں اس کے متعلق جواب دے چکا ہوں۔مملکت پاکستان میں بھی کچھ لوگ اس قسم کا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ صدر اور وزیر اعلیٰ کے حلف کے الفاظ یہ بتاتے ہیں کہ احمدی مسلمان نہیں ہیں لیکن چونکہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اس لئے اب میاں طفیل محمد صاحب نے پریس کا نفرنس میں یہ اعلان کر دیا ہے کہ آزاد کشمیر والوں نے بڑا معرکہ مارا ہے۔پاکستان کی حکومت کو بھی یہ قانون پاس کرنا چاہیے کہ احمدی غیر مسلم اقلیت ہیں مگر تم تو کہ رہے تھے کہ حلف