خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 149 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 149

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۴۹ خطبہ جمعہ ۴ رمئی ۱۹۷۳ء کے الفاظ نے ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا اب کہتے ہو کہ نہیں ، قانون پاس کرو۔تمہارا یہ مطالبہ کرنا کہ پاکستانی حکومت کوئی ایسا قانون بنائے ، بتاتا ہے کہ تم جب یہ کہتے تھے کہ حلف کے الفاظ سے احمدی غیر مسلم اقلیت بنتے ہیں تو تم جھوٹ بول رہے تھے۔کل تو تم یہ کہتے تھے آج یہ کہہ رہے ہو۔بات دراصل یہ ہے دوست اسے اچھی طرح سے ذہن نشین کر لیں کہ ہم اس یقین پر قائم ہیں کہ ایک مومن کو اپنے ایمان کے لئے سیاست کی سند یا ظاہری علم دینی کے فتویٰ کی ضرورت نہیں ہے۔اگر کسی شخص کو یہ خیال ہو کہ اس کے مسلمان بننے یا رہنے کے لئے کسی بادشاہ کی سند یا کسی بڑے مفتی کے فتوے کی ضرورت ہے تو میرے نزدیک اس کا ایمان ایمان نہیں ہے۔اگر فتوے کی ضرورت نہیں ہے اور یقیناً ضرورت نہیں ہے تو پھر یہ فتوے ایک لا یعنی چیز ہیں۔اللہ تعالیٰ کے علم میں تو ہر چیز ہے جب اللہ تعالیٰ کے سامنے ایسے فتوے جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت ہمیں بتاتی ہے کہ ایسے فتوے اس کے حضور قابل قبول نہیں۔غرض ہمارے خلاف دیئے جانے والے فتوؤں کی کوئی حقیقت نہیں۔جب میں ”ہمارے خلاف“ کہتا ہوں تو ہم سے میری مراد صرف آج کی دنیا کا احمدی نہیں بلکہ ”ہم سے میری مراد حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر اس زمانے تک خدا تعالیٰ کی محبت میں فانی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں مست اور اسلامی تعلیم کو اوڑھنا بچھونا بنانے والے مسلمان جب بھی ہوئے اور جہاں بھی ہوئے ان کے بارہ میں اس قسم کے فتوے کوئی فرق نہیں ڈالتے۔اس لئے فرق نہیں ڈالتے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرمایا ہے هُوَ سَشْكُم الْمُسْلِمِينَ (الحج: ۷۹ ) اللہ تعالیٰ نے تمہیں مسلمان کہا ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں مسلمان کہا ہے تو پھر اگر ساری دنیا تمہیں کافر کہے اس کا نتیجہ یہ تونہیں نکلتا کہ تم مسلمان نہیں رہے کیونکہ تمہیں تو خود خدا نے مسلمان کہا ہے پوری آیت یوں ہے:۔هُوَ سَشْكُمُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قَبْلُ وَ فِي هَذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاء عَلَى النَّاسِ * فَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَأتُوا الزَّكَوةَ وَاعْتَصِمُوا بِاللهِ هُوَ مَوْلَكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلَى وَ نِعْمَ النَّصِيرُ - (الحج: ٧٩)