خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 147 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 147

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۴۷ خطبہ جمعہ ۴ رمئی ۱۹۷۳ء عرش رب کریم کے بعد کسی شے کا تصور ہی ممکن نہیں ہے گویا آپ کے بعد کسی نبی کے آنے کا سوال ہی نہیں ہے کیونکہ اس ارفع روحانی مقام کے بعد کوئی رفعت ممکن ہی نہیں لیکن جو ساتویں آسمان پر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت اور آپ کی سچی پیروی اور آپ کے فیض۔مستفیض ہو کر پہنچا یعنی مہدی معہود وہ اپنے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نہیں ہے ورے ہے وہ آپ کے آخری ہونے میں روک نہیں ہے اگر کسی وقت ملک دشمن عناصر نے اس حلف نامہ کو وجہ فساد بنا کر ملک میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کی تو اُس وقت دنیا کو پتہ لگ جائے گا کہ حقیقت کیا ہے؟ شنید ہے کہ ملک دشمن عناصر یہ کہہ کر بھی ملک میں شور مچائیں گے اور فتنہ و فساد پیدا کرنے کی کوشش کریں گے کہ شیعہ حضرات صدر اور وزیر اعظم نہیں بن سکتے کیونکہ ان کے خلاف حضرت ولی اللہ شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ”تفہیمات الہیہ میں لکھا ہے کہ وہ اپنے اماموں کو انبیاء سے بالا درجہ دیتے ہیں اس واسطے وہ ختم نبوت کے منکر ہیں حضرت ولی اللہ شاہ کے ذہن میں غالباً یہی ہوگا کہ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مصدق ہر نبی کا مقام زیادہ سے زیادہ ساتواں آسمان ہے اس سے اوپر نہیں۔اس سے اوپر عرش رب کریم پر مقام محمد یت ہے اور جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات وصفات منفرد ہے اس لئے اگر شیعہ صاحبان اپنے اماموں کا درجہ ساتویں آسمان سے اوپر بتاتے ہیں تو وہ گو یا ختم نبوت کے منکر ہیں واللهُ أَعْلَمُ بِالضَّوَابِ۔اب ذرا اور آگے چلئے اہل حدیث اور بعض دوسرے فرقے بھی ہم سے مناظرہ کرتے آئے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام آسمانوں پر زندہ موجود ہیں اور ایک وقت میں اُن کا نزول ہوگا۔اب ایک ایسا مسلمان جس کا اس فرقے کے ساتھ تعلق ہے یعنی وہ حیات مسیح اور نزول مسیح کا قائل ہے وہ یہ حلف نہیں اٹھا سکتا لیکن احمدی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ کسی نئے نبی کے قائل ہیں اور نہ کسی پرانے نبی کے۔حلف میں یہ الفاظ ہی نہیں ہیں کہ کوئی پرانا نبی آسکتا ہے اور نیا نہیں آسکتا بلکہ لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔اگر وہ معنی لئے جائیں جو ہم کرتے ہیں کہ مقام محمدیت یا ختم نبوت کا مقام عرشِ ربّ کریم ہے اس کے بعد تو کوئی اور چیز ہو ہی نہیں سکتی۔اگر تم یہ معنے کرتے ہو تو پھر ہم پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور اگر یہ معنے نہیں کرتے بلکہ