خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 139 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 139

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۳۹ خطبه جمعه ۱/۲۰ پریل ۱۹۷۳ء لے سکتا اس وقت تک مومن مایوس نہیں ہوتا پھر وہ بعض دفعہ خدا تعالیٰ کی قدرت کے جلوے بھی دیکھتا ہے اور بعض دفعہ الْحَمدُ لِلهِ پڑھ کر اور رضِيتُ بِاللهِ رَبًّا کہہ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔اس عالمین پر حکومت اللہ تعالیٰ کی ہے اور ہمیشہ اسی کی حکومت رہے گی۔ہم اس کے بڑے عاجز گنہگار اور کمزور بندے اور مزدور ہیں ہم اس کی صفات حسنہ کو پہچانتے ان پر یقین رکھتے اور ان کا مظہر بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ہم تو اس کے مزدور ہیں اور وہ بھی بڑی عاجز قسم کے۔غرض مومن کی یہ شان ہے کہ وہ کسی صورت میں مایوس نہیں ہوتا مثلاً بیماری کا سوال ہے تو جب تک عزیز زندہ ہے اس کے لئے ایک مومن انتہائی کوشش کرے گا کہ اسے آرام آجائے اس کی صحت یابی کے لئے ہر ممکن تدبیر کی جائے لیکن اگر خدا تعالیٰ کی تقدیر میں یہ ہو کہ اس کی زندگی پوری ہوگئی ہے تو پھر ایک طبعی غم جو انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے انبیاء کے ساتھ بھی لگا ہوا ہے ان کے ماننے والوں کے ساتھ بھی لگا ہوا ہے اس سے مفر نہیں لیکن خدا تعالیٰ کا شکوہ ایک لحظہ کے لئے بھی ایک مومن کے دل میں پیدا نہیں ہوتا وہ اسی طرح اپنے کام میں مشغول ہو جاتا ہے جس طرح پہلے مشغول تھا کیونکہ کام اتنا ہے کہ اس کی کوئی حدو انتہا ہی نہیں۔غلبہ اسلام کا کام کوئی آسان کام نہیں ہے۔یہ تو نشان راہ ہیں۔جو دوست کام کرتے ہوئے شہید ہو جاتے ہیں وہ اپنے پیچھے نشان چھوڑ جاتے ہیں۔جن کو خدا تعالیٰ زندہ رکھتا ہے وہ اس کام میں پورے انہماک کے ساتھ آگے بڑھ جاتے ہیں۔کام کی اہمیت اور جو فریضہ ان کے سپرد کیا گیا ہے اس کو آخری انجام تک پہنچانے کا احساس توجہ کے ہر گوشہ کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔اس کی ان چیزوں یعنی بیماریوں اور اموات کی طرف توجہ نہیں ہوتی یہی وہ اصل کام ہے جسے یا درکھنا اور جس کی خاطر ہر دکھ کو بھلا دینا چاہیے۔بہر حال جو حالت میر صاحب کی کل تھی آج اس سے بہتر ہے بظاہر بہت بہتر ہے لیکن شافی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔دوائیوں نے تو شفا نہیں دینی یہ تو ایک پردہ ہیں۔پس پردہ اللہ تعالیٰ کی قدرتیں کارفرما ہیں ورنہ ایمان بالغیب کے بغیر ایمان کے ثواب کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔دوست دعا کریں اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرمائے اور پس پردہ ان تاروں کو حرکت میں لائے جن کے نتیجہ میں میر داؤ د احمد صاحب کو لمبی زندگی عطا ہو۔جہاں تک تدبیر کا تعلق ہے وہ تو ہم سب