خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 132 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 132

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۳۲ خطبہ جمعہ ۲۰ ۱٫ پریل ۱۹۷۳ء چندہ تو ہماری کوششوں کا شاید ہزارواں حصہ ہوگا۔ہم صرف چندے کی تحریک نہیں کرتے بلکہ ہم اپنے دوستوں سے یہ بھی کہتے ہیں کہ غلبہ اسلام کے لئے دعائیں کرو۔اب دعا کرنا کوئی معمولی بات تو نہیں ہے دعا کے لئے ذہن کو تیار کرنا پڑتا ہے۔دعا کے لئے وقت کا انتخاب کرنا پڑتا ہے دعا کے لئے دنیوی جذبات کو قربان کرنا پڑتا ہے دعا کے لئے دنیوی آراموں کو چھوڑ نا پڑتا ہے۔غرض بہت کچھ قربان کرنا پڑتا ہے تب دعا صحیح معنی میں دعا ہوتی ہے۔پس پیسے دینا تو آسان ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس کو جتنا دیا ہے اس کا سولہواں یا اگر موصی ہے تو عام طور پر دسواں حصہ دیا جاتا ہے یا بعض موصی صاحبان پانچواں حصہ بھی دیتے ہیں بعض تیسرا حصہ بھی دے دیتے ہیں لیکن عام طور پر موصی دسواں حصہ دیتے ہیں لیکن جو اوقات کی قربانی مختلف رنگوں میں جماعت لے رہی ہے۔جماعت سے اور افراد جماعت سے وہ ۲۴ گھنٹے کے ایک دن میں نسبتاً بہت زیادہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہی نے فرمایا ہے کہ رات کا ایک تہائی حصہ دعاؤں میں اور خدا تعالیٰ کی یاد میں اور اس کی حمد میں اور اس کے احسانوں کا شکر یہ ادا کرنے میں خرچ کیا کرو اور اسی طرح دن کے وقت بھی ایک مومن تو صبح سے لے کر شام تک اور شام سے لے کر صبح تک بیداری کے اوقات میں اتنا ذکر الہی کرتا ہے کہ خدا کے فرشتے کہتے ہیں کہ اس کی نیند کے اوقات کو بھی ذکر الہی میں شمار کر لو کیونکہ اگر یہ اس وقت بھی اپنے ہوش میں ہوتا یعنی نیند نہ آئی ہوتی اور خدا تعالیٰ نے اسے آرام کرنے کا حکم نہ دیا ہوتا تو یہ اس وقت کو بھی ذکر الہی میں گزار رہا ہوتا کیونکہ مومن تو دنیا کے سارے دھندے کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کی یاد کو نہیں بھلاتا۔اسلام ایک ایسا عظیم اور حسین مذہب ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی دوسری ظاہری ذمہ داریوں کو چھوڑ کر ہی ذکر الہی کی تلقین نہیں فرمائی۔گو ہم بعض مواقع پر دنیوی مصروفیات کو چھوڑ کر بھی ذکر الہی کرتے ہیں مثلاً ہم سب کام چھوڑ کر یہاں جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لئے جمع ہوتے ہیں۔قرآن کریم نے کہا ہے کہ جب تمہیں نماز جمعہ کے لئے بلایا جائے تو ہر قسم کی بیع وشراء کو چھوڑ دیا کرو۔میں نے آج نماز جمعہ کے لئے آتے ہوئے محسوس کیا ہے کہ بعض دوست اس ہدایت کی