خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 131
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۳۱ خطبه جمعه ۲۰ ۱٫ پریل ۱۹۷۳ء جا سکتے تھے نقلیں کرنے کی زحمت نہ دی جاتی۔پس ایسی جماعتوں کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ بیدار ہو جائیں اور ایسی جماعتوں کے احباب کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ یا تو ذمہ دار عہدیداروں کو بیدار کریں یا پھر ایسے عہد یداروں کو جماعتی کاموں سے فارغ کر دیں۔ان بیچاروں کے کندھوں پر دوست ایسا بوجھ کیوں ڈالتے ہیں جس کو وہ اٹھا ہی نہیں سکتے اور وہ بھی کیوں یہ خواہش رکھتے ہیں کہ آئندہ سال بھی اس قسم کا بوجھ ان کے کندھوں پر ڈال دیا جائے جس کے متعلق ان کو علم ہوتا ہے کہ وہ اس کو اٹھا نہیں سکتے۔میں سمجھتا ہوں کہ ایک آدمی کے کندھوں پر ایسا بوجھ ڈال دینا جسے وہ اٹھا نہیں سکتا، ظلم ہے۔جب پچھلے دس پندرہ سال سے تجربہ ہو رہا ہے کہ کچھ لوگ اس بوجھ کو نہیں اٹھا ر ہے یا نہیں اٹھا سکتے تو پھر ان پر جماعتی کاموں کا بوجھ ڈال دینا زیادتی ہے۔یہ حرکت تو اگر کسی گدھے کے ساتھ کی جائے تب بھی انسان اسے ظلم سمجھتا ہے۔انسان کو تو اللہ تعالیٰ نے گدھے سے بدرجہا بہتر بنایا ہے بشرطیکہ وہ اپنے مقام کو سمجھے۔پس جو سلوک آپ ایک گدھے سے کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے وہ ایک انسان سے کیوں کرتے ہیں اور بار بار اس کی طاقت سے زیادہ اس کے کندھوں پر بوجھ کیوں ڈال دیتے ہیں؟ آپ اسے کیوں عہد یدار منتخب کر لیتے ہیں اور جماعتی ذمہ داریاں اس کے سپرد کر دیتے ہیں؟ ایسے شخص کو عہد یدار منتخب کرنا عزت افزائی نہیں اور نہ اس کا احترام مقصود ہے بلکہ اس پر یہ ظلم ہے کہ اس کے کندھوں پر ایک ایسا بوجھ ڈال دیا جائے جسے وہ برداشت نہیں کر سکتا۔پس ایسی جماعتیں بھی ہیں جو اپنا بجٹ پورا نہیں کرتیں گو تھوڑی ہیں لیکن ہیں ضرور اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔تاہم اکثریت ایسی جماعتوں کی ہے جو اپنا اپنا بجٹ پورا کر دیتی ہیں۔میرے خیال میں ۹۹۹۹۹ احمدی دوست ایسے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی غافل تو ہو جاتا ہے۔اسے اونگھ تو آ جاتی ہے لیکن نیند نہیں آتی اگر ایسے دوست کو وقت پر اس اونگھ سے بیدار کر دیا جائے تو وہ بشاشت کے ساتھ مالی قربانیوں میں حصہ لینے لگتا ہے ہماری جماعت صرف مالی قربانی نہیں دے رہی بلکہ وقت کی قربانی بھی دے رہی ہے۔جب ہم مالی قربانیوں کی یاددہانی کراتے ہیں کہ بعض غیر لوگ اور جماعت کے اندر منافق یہ کہتے ہیں کہ دیکھو چندے دینے کی بات کر دی ہے حالانکہ