خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 133
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۳۳ خطبه جمعه ۱٫۲۰ پریل ۱۹۷۳ء پابندی نہیں کرتے کیونکہ آذان کے قریباً ۵۰-۵۵ منٹ کے بعد بھی جب میں گول بازار سے گزر رہا تھا تو بعض دکانداروں کے متعلق شبہ ہے کہ انہوں نے بارہ بجے آذان ہونے کے ساتھ ہی دکان بند نہیں کی یہ طریق غلط ہے۔قرآن کریم کا حکم ہے کہ جس وقت جمعہ کی پہلی اذان ہو تو اس وقت دکانیں بند کر دی جائیں اس لئے میں احباب جماعت سے کہتا ہوں کہ تمہارے اندر یہ ارج (Urge ) ہونی چاہیے تمہارے اندر یہ جذبہ ہونا چاہیے کہ ہم خدا تعالیٰ کے ہر حکم کی پوری طرح پیروی کریں گے اور بشاشت کے ساتھ کریں گے اس لئے جس وقت اذان کا وقت ہو جائے اس وقت خواہ آپ کے کان میں اذان کی آواز پہنچے یانہ پہنچے اپنی دکانیں بند کر دیا کرو۔اب جب تک دوست یہاں ٹھہریں گے دنیا کے دوسرے کام تو نہیں کریں گے خدا کی باتیں سنیں گے خدا کا ذکر کریں گے اس وقت گویا ہمارے جسم اور روح کی ساری قوتیں عبادت الہی میں لگی ہوتی ہیں۔غرض کچھ تو اس قسم کی عبادتیں ہیں لیکن ایک وہ عبادت ہے کہ آپ کے ساتھ جو دنیا کی ذمہ داری وابستہ ہے اسے ادا کرنا ہوتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح یہ کہا گیا تھا کہ جو قیصر کا ہے وہ قیصر کو دو اور جو خدا کا ہے وہ خدا کو دو۔پس جس شخص نے اس آواز کو سن کر جو قیصر کا تھا وہ قیصر کو دیا اس نے بھی گویا عبادت ہی کی کیونکہ اس نے خدا کا حکم مانا غرض جو ذمہ داری ہاتھوں سے تعلق رکھتی ہے اور حقوق العباد سے جس کا تعلق ہے اس ذمہ داری کی ادائیگی کے وقت بظاہر دنیا کے کاموں میں پوری طرح مشغول اور پوری مہارت کے ساتھ بہتر نتائج نکالنے کی کوشش میں مصروف ایک مومن انسان کا دل بھی ہر وقت خدا کی یاد اور اس کی حمد سے معمور رہتا ہے یہ بھی عبادت ہی ہے۔اس کے مقابلہ میں مالی عبادت تو بڑی معمولی چیز ہے۔ہم زیادہ زور اس بات پر دیتے ہیں کہ احباب اسلامی تعلیم کے پیرو اور خدا تعالیٰ کی صفات کے رنگ میں رنگین ہو جا ئیں چنانچہ اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاں موصی کے لئے دسویں حصہ کی شرط لگائی ہے وہاں یہ بھی فرمایا ہے کہ جس شخص کا معیار زندگی اسلامی نہیں اور وہ اپنے اخلاق میں ایک عام مسلمان سے بلند نہیں اگر وہ اپنے