خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 103
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۰۳ خطبه جمعه ۳۰ مارچ ۱۹۷۳ء یہ مادی وجود بھی عطا نہ ہوا تھا۔غرض سب نبوتیں نبوت محمدیہ کے تحت حاصل کی گئی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسی نبوت کی خاطر اور اسی مقام محمدیت کی خاطر ساری کائنات کو پیدا کیا تھا اس لئے جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی روحانی رفعت ساتویں آسمان تک پہنچنے کے باوجود ختم نبوت کے منافی نہیں ہے اسی طرح حضرت آدم علیہ السلام کی روحانی رفعت پہلے آسمان تک پہنچنے کے باوجود ختم نبوت میں خلل اندازی نہیں کر رہی۔حضرت رسولِ کریم صلی اللہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ میرے روحانی فرزند یعنی علمائے باطن جو مجھ سے قرآنی علوم حاصل کر کے قرآنِ کریم کی شریعت کو زندہ اور تابندہ رکھیں گے اور ہر صدی میں آتے رہیں گے۔وہ بھی انہی انبیاء کی طرح ہیں جن میں سے کوئی پہلے آسمان تک پہنچا کوئی دوسرے پر کوئی تیسرے پر، کوئی چوتھے پر کوئی پانچویں پر، کوئی چھٹے پر اور ایک ایسا بھی پیدا ہوگا جو انتہائی عاجزی اور عشق کے سارے مراحل طے کرنے کے بعد اور محبت کی انتہائی رفعتوں کو پالینے کی وجہ سے ساتویں آسمان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پہلو میں جا پہنچے گا اور سید و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں جگہ پائے گا۔جس طرح ابراہیم علیہ السلام کی روحانی رفعت ساتویں آسمان تک پہنچنے پر ختم نبوت کے منافی نہیں پڑتی اسی طرح حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عظیم روحانی فرزند کی روحانی رفعت ساتویں آسمان تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام محمدیت میں کوئی رخنہ اندازی نہیں کرتی۔دوسرے یہ تصویر یہ حقیقت معراج ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کسی کی روحانی رفعتیں سات آسمانوں میں محصور ہونے کی وجہ سے مقام ختم نبوت میں کوئی خلل نہیں ڈالتیں کیونکہ وہ ارفع مقام اس کے اوپر کا مقام ہے اور ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ روحانی رفعتوں کے حصول کے لئے اپنی اپنی استعداد کے مطابق کوشش کرو۔ہمیں یہ بشارت بھی دی گئی ہے کہ امت محمدیہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایسا فرزند جلیل پیدا ہوگا جو ساتویں آسمان تک پہنچ جائے گا تاہم اس کا مقام حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ہے۔تیسرے یہ کہ جو شخص انسان کے فتوؤں سے مومن بنتا ہے۔انسان کے کفر کے فتوے اس کا