خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 804
خطبات ناصر جلد پنجم ۸۰۴ خطبہ جمعہ ۲۲ نومبر ۱۹۷۴ء کے اندر آتا ہے کہ یا گناہ سرزد نہیں ہوگا یا بدنتائج سے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھ لے گا۔قرآن کریم نے مختلف انسانوں کے لئے مختلف معانی کئے ہیں۔فرمایا اور نور دیا جائے گا۔نور کے معنی ہیں کہ ہر کام میں تمہیں ایک بشاشت نورانی دی جائے گی اور علی وجہ البصیرت تم نیکی کے کام کرو گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ تمہارے افعال میں نور ہو گا۔تمہارے اقوال میں نور ہو گا۔تمہارے قویٰ میں نور ہوگا، تمہارے حواس میں نور ہو گا۔تم نور کامل بن جاؤ گے اور جن راہوں پر تم چلو گے وہ روشن اور چمکدار ہوں گی اور جن راہوں سے تم نے بچنا ہوگا اور جن سے خدا تعالیٰ نے شریعت محمدیہ میں بچنے کا حکم دیا ہے وہ اندھیرے ہوں گے۔نور اور اندھیرے کا فرق تمہارے اور غیر کے درمیان ہو گا کہ تم روشن راہوں پر علی وجہ البصیرت بشاشت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے انعاموں کو حاصل کرنے میں آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاؤ گے اور جو غیر ہیں اور خدا اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور وہ اندھیروں میں بھٹکنے والے ہوں گے۔اُن کو پتہ ہی نہیں ہو گا کہ کون سی راہ خدا تک لے جاتی اور کون سی راہ اُس کے دور کرنے والی ہے۔یہ اُسی سلسلۂ مضامین کا حصہ ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی سے محبت کرتا ہے اور جو متقی نہیں ہے اُس سے پیار نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس عہد پر کامیابی کے ساتھ اور وفا کے ساتھ قائم رہنے والے سے محبت کرتا ہے۔اُس عہد پر جس کے معنی قرآن کریم کے سمجھنے والوں نے شریعت محمدیہ کے کئے ہیں۔پس جو احکام اوامر و نواہی قرآنِ کریم کی شریعت میں ہمیں بتائے گئے اگر ہم نے جو عہد بیعت کیا ہم نے جو یہ عہد کیا کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان رکھیں گے اور اُس پر عمل کریں گے ہم نے جو یہ عہد کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ ہم اپنے لئے اسوۂ حسنہ بنائے رہیں گے۔ہم نے جو یہ عہد کیا کہ ہم آپ کے نقش قدم پر چلنے والے ہوں گے اور جن راہوں پر ہمارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم نہیں پڑا ہم ان راہوں پر قدم نہیں ماریں گے اگر اس عہد کو ہم نبا ہیں گے اگر ہم خدا تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کو اپنے لئے ڈھال بنائیں گے اور سلامتی کا اور بھٹکنے سے حفاظت کا ذریعہ اسے قرار دیں گے۔اس کی انگلی پکڑیں گے تمثیلی زبان ہے ٹھیک ہے لیکن تمثیلی زبان کے بغیر ہم سمجھ نہیں سکتے ) ہم اُس سے یہ عاجزانہ دعائیں کریں گے