خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 803
خطبات ناصر جلد پنجم ٨٠٣ خطبہ جمعہ ۲۲ نومبر ۱۹۷۴ء اختلاف پیدا ہوا اور وہ نا معقول حد تک پہنچ رہا تھا۔ہم وہاں گئے لمبا قصہ ہے مختصر کروں گا تو میں نے دونوں گروہوں کے لیڈروں کو کہا آؤ چلو میرے ساتھ اُن کے ساتھی ایک دوسرے کو غصہ دلانے کی باتیں کر کے بھڑکا رہے تھے اور وہ صلح کی طرف مائل نہیں ہو رہے تھے ، میں اُن کو باہر لے گیا۔ایک کھیت میں ہم آرام سے بیٹھ گئے اور میرے دماغ کے کسی کو نہ میں بھی یہ خیال نہیں آیا کہ کپڑوں کو مٹی لگ جائے گی۔زمین پر بیٹھ گئے اُن سے باتیں شروع کیں آدھ پون گھنٹہ میں آرام کے ساتھ اُن کی صلح ہوگئی ، کیونکہ اکیلے تھے اور اُن کو جوش دلانے والا کوئی نہیں تھا کپڑے کی صفائی ضروری ہے لیکن یہ سمجھنا کہ کپڑے کو صاف ستھرا رکھنا کہ مٹی بھی نہ لگے یہ اتنا بڑا ثواب ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی ثواب ہی نہیں ، یہ غلط ہے۔جب تکلف بیچ میں آجائے گا تو کپڑے کی صفائی بھی گناہ بن جائے گی ، یعنی اس حد تک صفائی کہ مٹی لگی ہی نہ ہو کوئی داغ نہ لگا ہوا ہو یہ صحابہ کرام کی زندگیوں میں نظر آتا ہے کہ ایسا زمانہ بھی تھا کہ وہ کوئی کپڑا بھی نہیں بچھا سکتے تھے نماز کا وقت ایسی جگہ آ گیا ہے کہ مسجد نہیں جا سکتے وہیں زمین پر ہی نماز پڑھ لیتے تھے کیونکہ جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔بڑی بے تکلف زندگی ہے جو اسلام نے ہمارے سامنے پیش کی ہے جو قر آنی ہدایت نے ہمیں بتائی ہے۔پس جو شخص تقویٰ سے کام لیتا ہے یعنی جن برائیوں سے جن کمزوریوں سے اسلام نے روکا ہے اُن سے بچتا ہےاوران راہوں کو اختیار کرتا ہے۔مثلاً استغفار کثرت سے کرنا دعا کثرت سے کرنا۔خدا تعالیٰ سے دعائیں کثرت سے کرنا کہ خدا تعالیٰ ہر قسم کی بدی اور برائی سے محفوظ رکھے اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک فرقان کا سامان ایک امتیاز کا سامان پیدا کر دیتا ہے اور جو شخص اس قسم کا ہو کہ وہ ہر وقت چوکس رہ کے گناہوں سے بچنے والا اور اعمالِ صالحہ بجالانے والا اور مخلوق کی خدمت کرنے والا اور انسان سے ہمدردی کرنے والا ہے اس کی زندگی اور غیر کی زندگی میں تو زمین اور آسمان کا فرق ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دیکھو کتنا بڑا انعام میں تمہیں دوں گا۔اگر تم عہد شریعت محمدیہ کو نبا ہو گے اور تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرو گے تو تم میں اور غیر میں زمین اور آسمان کا فرق پیدا کر دیا جائے گا اور سیئات کو ڈھانپ دیا جائے گا اور ڈھانپنے کے بھی دو معنی ہیں جس طرح استغفار