خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 805 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 805

خطبات ناصر جلد پنجم ۸۰۵ خطبہ جمعہ ۲۲ نومبر ۱۹۷۴ء کہ وہ خود ہمارا رہبر بنے اور اگر تقویٰ کی باریک راہوں کو اختیار کر کے اپنے روحانی وجود کے حسن کے نقوش ابھاریں گے تو اللہ تعالیٰ ہم میں اور غیر میں فرق کر دے گا اور جب اللہ تعالیٰ ہم میں اور غیر میں ایک فرق کرے گا اس طرح ہم سے پیار کرے گا تو ہم سے غلطیاں یا سرزد نہیں ہوں گی یا ہمیں تو بہ اور استغفار کے ساتھ ان غلطیوں کی معافی کی توفیق ملے گی اور اللہ تعالیٰ نیکیوں کی راہوں کو ہمارے لئے منور کر دے گا اور ہمارے قومی کو اور ہماری طاقتوں کو اور ہماری استعدادوں کو یہ عادت پڑ جائے گی کہ صرف انہی راہوں پر وہ چلیں جن راہوں کو اللہ تعالیٰ کے نور نے اُس کی رحمت کے ساتھ منور کیا ہوا ہے۔یہ وہ امتیاز ہے، یہ وہ فرقان ہے جس کے نتیجہ میں احمدیت کے ذریعہ انسانوں کے دل جیتے جاتے رہے اور جیتے جائیں گے۔انشاء اللہ تعالی۔یہ وہ ذمہ داری ہے جو آپ پر ڈالی گئی ہے۔اس کے بغیر اس دعوی میں آپ سچے نہیں ہو سکتے کہ ہماری زندگیاں نوع انسانی کے دلوں کو جیت کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرنے کے لئے ہیں۔یہ ہماری زندگی کا مقصد ہے اس لئے جو خدا نے کہا کہ عہدوں کو پورا کرو اور تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرو تم میں اور غیر میں ایک امتیاز ایک فرقان پیدا کیا جائے گا اور تمہاری کمزوریوں کو اُن ہر دو معنی میں جو میں نے بتائے ڈھانپ دیا جائے گا اور نور کے سامان تمہارے لئے پیدا کئے جائیں گے۔یہ امتیاز ہے۔یہ امتیاز اگر آپ پیدا کر لیں تو کسی کو کچھ اور کہنے کی ضرورت نہیں رہے گی ، ہر شخص یہ سمجھے گا کہ غیروں میں اور اُن میں فرق ہے اور ہر شخص یہ سمجھے گا کہ اللہ تعالیٰ کے نور کی طرف یہ قوم لے جانے والی ہے اس لئے تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى (المآئدۃ : ٣) کے مطابق اپنے نفوس کی اصلاح کے ساتھ ساتھ اپنے ماحول کی اصلاح بھی کرو اور اُسے نورانی بنانے کی کوشش کرتے رہو، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا کرے۔(روز نامه الفضل ربوده یکم مارچ ۱۹۷۵ صفحه ۲ تا ۵)