خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 752
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۵۲ خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۷۴ء پھر اس ضمن میں اللہ تعالیٰ ایک دوسری آیت میں فرماتا ہے کہ جب ایک مضطر عاجزانہ طور پر اور بڑے اضطرار کے ساتھ خدا کے حضور دعائیں کرتا ہے تو يَكشِفُ السُّوءَ اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے، اس کی دُعاؤں کو قبول کر کے اس کی تکلیف کو دُور کر دیتا ہے اور اس کی بے چینی کوسکون میں بدل دیتا ہے۔بے چینی کی ایک حالت یہ بھی ہے کہ مثلاً ایک شخص کو ابھی تک خدا کا پیار نہیں ملا یا اُسے خدا کا پیار تو ملا ہے لیکن وہ اس سے زیادہ پیار چاہتا ہے اور اس کے لئے بے چین ہو جاتا ہے تو یہ چیز بھی مضطر کے اندر آجاتی ہے چنانچہ اگر دعا میں دل نہیں لگتا۔رفت نہیں پیدا ہوتی توجہ نہیں قائم رہتی یا اور بہت سی وجوہات ہیں جن کو لوگ بیان کرتے رہتے ہیں تو اس صورت میں یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعا کے میدان میں ایک مبتدی کے لئے بڑی حکیمانہ تعلیم دی ہے۔آپ فرماتے ہیں :۔از دعا کن چاره آزار انکارِ دُعا بچوں علاج کے زکے وقت خمار والتہاب فرمایا اگر انسان میں دعا سے انکار یا دعا سے بے رغبتی پیدا ہو جائے تو اس بیماری کا علاج دعا سے کرو اور یہ علاج اسی طرح ہوگا جس طرح ایک دنیا دار شرابی جب اس کی شراب کا نشہ ٹوٹ جائے اور خمار پیدا ہو تو اس کی تکلیف کا مداوا شراب سے کر لیتا ہے۔اسی طرح تم دعا سے انکار اور دعا سے بے رغبتی سے بچنے اور دعا میں اور زیادہ توجہ کو قائم کرنے کے لئے دُعائیں کرو اور بہت دُعائیں کرو۔اس کے علاوہ اور کوئی علاج نہیں ہے۔یہ ایک گہرا نکتہ ہے اور ایک بہت بڑی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآنِ کریم کی روشنی میں واضح کیا ہے اور فرمایا ہے کہ تم خدا کے حضور یہ دعا کرو کہ وہ صحیح شرائط کے ساتھ اور پوری رغبت کے ساتھ اور پوری توجہ کے ساتھ دعا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔پس خدا تعالیٰ نے انسان کو جو قوت دعا عطا کی ہے اور اُسے دعا کی جو سمجھ بخشی ہے اور دعا کی جو معرفت دی ہے اور انسان کے اندر (وصل الہی کے لئے جو ) ایک بے چینی اور جذبہ پیدا کیا ہے یہی انسان اور غیر انسان میں ما بہ الامتیاز ہے نہ صرف یہی بلکہ جب انسان صحیح حالت میں خدا کے حضور جھکتا ہے تو وہ اپنے فضل سے اس کی دعا کو قبول کر لیتا ہے اور یہ بھی انسان اور اس کے غیر میں