خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 748
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۴۸ خطبه جمعه ۱٫۲۵ کتوبر ۱۹۷۴ء کی تھیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ فرمایا ہے کہ یہ ایسے اعمال ہیں جو اللہ تعالیٰ کو محبوب اور پیارے ہیں۔ان پر عمل کرنے والے اللہ تعالیٰ کی محبت اور رضا کو حاصل کرتے ہیں۔آج میں ایک تیسری بات بیان کرنا چاہتا ہوں جس کے متعلق قرآنِ کریم نے بتایا ہے کہ اس کام کے کرنے سے اور اس عمل کے بجالانے سے انسان اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کا پیار اور اس کی رضا حاصل کر لیتا ہے اور اس کے متعلق خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اس کا ایک پہلو ایسا ہے جس میں ہر مخلوق شامل ہے اور اس کا ایک پہلو ایسا ہے جو انسان کو اس کائنات کی ہر دوسری مخلوق سے ممتاز کرنے والا ہے یعنی یہ پہلو انسان اور کائنات کی ہر دوسری مخلوق کے درمیان امتیاز پیدا کرنے والا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور ان کے اندر جو کچھ بھی ہے یعنی انسان اور دوسری سب چیزیں خدا تعالیٰ کی تسبیح اور تحمید کرنے والی ہیں۔فرما یا :۔ان من شَيْءٍ إِلا يُسَبِّحُ بِحَمدِہ کائنات کی کوئی مخلوق ایسی نہیں ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی تسبیح نہ کرتی ہوا سے پاک نہ قرار دیتی ہو اور اس کی تعریف نہ کرتی ہو اور ہر تعریف زبانِ حال سے اپنے پیدا کرنے والے اللہ کی طرف پھیرتی نہ ہو اس کا ئنات میں صرف انسان ہی کام نہیں کرتا بلکہ ہر مخلوق کسی نہ کسی کام پر لگی ہوئی ہے اور اُن کے یہ کام خدا تعالیٰ کی ذات کو پاک بھی قرار دیتے ہیں یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں کوئی نقص نہیں یا کوئی کمزوری نہیں ہے۔پس جہاں تک تسبیح و تحمید کا تعلق ہے انسان اور غیر انسان میں کوئی فرق نہیں ہے۔غیر انسان میں حیوان ہوں، حیوانوں میں چرند، پرند اور درند ہوں یا غیر انسان میں غیر حیوان ہوں مثلاً نباتات ہوں یا جمادات ہوں ، نباتات کی اپنی زندگی ہے، جمادات کی اپنی زندگی ہے۔زمین کی اپنی زندگی ہے۔ستاروں کی اپنی زندگی ہے۔ستاروں کے خاندانوں کی اپنی زندگی ہے۔غرض اس کا ئنات میں ہمیں مختلف زندگیاں نظر آتی ہیں اور ہر چیزا اپنی زندگی میں خدا تعالیٰ کی تسبیح بھی کر رہی ہے اور اس کی تحمید بھی بیان کر رہی ہے مگر اس زبان میں کر رہی ہے جو انسان کی زبان سے مختلف ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَ لكِن لاَ تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ تم ان کی تسبیح اور تحمید کو سمجھ نہیں سکتے اور اُن کی زبان ہے اطاعت کی اور انسان کی زبان ہے محبت اور عشق کی اور ان