خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 747
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۴۷ خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۷۴ء اسلام کے نزدیک انسان اور غیر انسان میں فرق کرنے والی چیز خدا تعالیٰ کی عطا کردہ قوت دعا ہے خطبه جمعه فرموده ۲۵ اکتوبر ۱۹۷۴ء بمقام مسجد اقصی۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیات تلاوت فرمائیں :۔تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَوتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَ مَنْ فِيهِنَّ وَ إِنْ مِّنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ ط ط بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا - (بنی اسرآءيل: ۴۵) أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ۔(البقرة: ۱۸۷) وو اَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ (النمل : ٦٣ ) قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمُ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا - (الفرقان : ۷۸) پھر حضور انور نے فرمایا:۔اس سے قبل ( بعض خطبات میں ) میں تین ایسی باتیں بیان کر چکا ہوں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآنِ عظیم میں یہ فرمایا ہے کہ ان کے کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ پیار نہیں کرتا۔ایسے اعمال کے نتیجہ میں لوگ اللہ تعالیٰ کے غضب کو مول لیتے ہیں اور پچھلے خطبہ میں دو باتیں میں نے ایسی بیان