خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 648
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۴۸ خطبہ جمعہ ۱۹ جولائی ۱۹۷۴ء داخل ہوں اور بنیادی حقیقت یہ ہے ، سب سے بڑی حقیقت یہ ہے اور جاننے والا جانتا ہے کہ یہی حقیقت ہے باقی سب چیزیں اس کی ذیل میں آتی ہیں۔وہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر بھروسہ کرنا چاہیے اور خدا تعالیٰ کے سوا کسی کی طرف مشرکانہ نظر نہیں اٹھانی چاہیے اور اسی پر توکل رکھنا چاہیے اور اسی کی رحمت پر بھروسہ کر کے ان احکام کو پورا کر دینا چاہیے جو اس نے ہمیں دیئے ہیں اور یہ سا یہ سلسلہ جونہ صرف دین کی بہبود کے لئے قائم ہوا ہے بلکہ دنیا اور دنیا داروں کی بہبود اور فلاح کے لئے بھی قائم کیا گیا ہے۔اس کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے اگر کہیں سے مدد اور رحمت کی امید کی جاسکتی ہے تو وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ کے دین کو تقویت پہنچانے کی خاطر تو ہمیں اپنے مکانوں میں جانا چاہیے لیکن دل میں وہم ہوتا ہے کہ پتہ نہیں وہاں جانا ٹھیک ہے یا نہیں یہ ایک احمدی کی سرشت کا مظاہرہ نہیں ہے یہ اس کی صفت نہیں۔اس لئے اب یہ کام جب شروع ہو گیا تو اس کو وسعت دی جانی چاہیے اور ہمیں اس سلسلہ میں کوشش کرنی چاہیے۔شروع ہو گیا سے میری یہ مراد ہے کہ ایک جگہ تو میرے علم میں ہے کہ وہاں شروع ہو گیا ہے۔ممکن ہے کسی دوسری جگہ بھی ہوا ہو اور ابھی تک میرے علم میں یہ بات نہ آئی ہو کیونکہ پچھلے دو تین دن سے مجھے حالات کا اس طرح علم نہیں جس طرح یہاں رہتے ہوئے ہوتا ہے تو اس کے لئے کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہمیں کیا پتہ ہے یہاں جو دوست یا جو خاندان ضرورت کے مطابق آئے ہوئے ہیں وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم کیسے فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وہاں کے حالات کیسے ہیں۔ان کا یہ کہنا بالکل ٹھیک ہے اور کسی شخص کا یہ حق نہیں کہ ان پر اعتراض کرے۔لیکن جماعت کا فرض ہے کہ ان کے لئے ایسے سامان پیدا کرے کہ ان کو پتہ لگ جائے کہ ان کے حالات ابھی ایسے ہیں یا نہیں ہیں۔انشاء اللہ ایک دن تو حالات سازگار ہوں ہی جائیں گے۔لیکن ہم نے تو آج ہی کی بات کرنی ہے کہ آج کہاں کیا حالات ہیں؟ اس لئے صدر انجمن احمدیہ کو مختلف اضلاع کی کمیٹیاں بنادینی چاہئیں۔جس میں اس ضلع کے ذمہ دار احمدی بھی ہوں اور جس میں صدر انجمن احمد یہ کے ذمہ دار افراد بھی ہوں اور وہ حالات کا جائزہ لیں اور اپنے اپنے اضلاع کے خاندانوں کو جو اس وقت یہاں آئے ہوئے ہیں ان کے حالات سامنے رکھ کر منصوبہ بنائیں کہ کس طرح حکومت وقت