خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 647 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 647

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۴۷ خطبہ جمعہ ۱۹ جولائی ۱۹۷۴ء کے ذریعہ یہ اعلان کیا کہ حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيْمَانِ ہم یہ دیکھیں کہ وہی خدائے عَلامُ الْغُيُوبِ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اور آپ کے ذریعہ لائی ہوئی شریعت کے مطابق کن چیزوں کو محب الوطنی میں شامل کرتا ہے۔( میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے علماء اس کی تفصیل میں جا کر چھوٹے چھوٹے مضامین لفضل کو دیں گے تاکہ دوستوں کے سامنے یہ چیز آجائے۔) میں نے اس وقت یہ تمہید اس لئے باندھی ہے کہ اگر چہ حالات ابھی پوری طرح معمول پر نہیں آئے لیکن حکومت نے یہ کوشش شروع کر دی ہے کہ وہ احمدی گھرانے جنہیں بعض حالات سے مجبور ہو کر اپنے شہروں یا اپنے مکانوں کو چھوڑنا پڑا تھا وہ واپس آکر اپنے مکانوں کو آباد کریں۔میں نے ہا ہے کہ بعض جگہوں پر یہ کوشش شروع ہو گئی ہے۔مثلاً گوجرانوالہ میں یہ کوشش ہوگئی اور بہت سے احمدی گھرانے اس وقت ، جب میں آپ کو یہ بات بتا رہا ہوں اپنے گھروں میں آباد ہو چکے ہیں کچھ رہتے ہیں ان کے لئے کوشش ہو رہی ہے۔انشاء اللہ وہ بھی آباد ہو جائیں گے۔یہ بڑی اچھی بات ہے جماعت کو چاہیے کہ اس سلسلہ میں قانونِ وقت اور حکومت وقت سے پورا پورا تعاون کریں اپنے گھروں کو نہ چھوڑنے کی ہدایت تو ۵۳ ء میں بھی دی گئی تھی اور اب بھی دی گئی تھی لیکن بعض ایسے حالات ہیں جو استثنائی شکل اختیار کرتے ہیں اور ان کے مطابق اگر کسی نے اس شکل میں اس ہدایت کی تعمیل نہیں کی جو دی گئی تھی تو اللہ تعالیٰ نے ایک مومن احمدی مسلمان کو بڑی فراست دی ہے ان کا جو فیصلہ ہے اگر وہ اپنی عقل کے مطابق درست ہے تو ان پر کوئی الزام نہیں اور اگر دینداری کے ساتھ انہوں نے ایسا فیصلہ کیا جو درست نہیں تو وہ زیر الزام نہیں۔اس لئے کہ انہوں نے فیصلہ کرنے میں بددیانتی کا کوئی اندھیرا اپنے ذہن میں گھنے نہیں دیا پوری دیانتداری سے سوچ بچار کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا۔خیر یہ تو ایک حد تک ماضی کا قصہ بن چکا۔اب مستقبل کو سنوارنے کا سوال ہے۔اور پہلی بات یہ ہے کہ جہاں جہاں بھی حکومت کے ذمہ دار افسران اور وہاں کے مقامی شہری جن کی بہت بھاری اکثریت یقیناً شرفا کی ہے ان سے مل کر آپس میں تعاون کر کے احمدیوں کو ان کے گھروں میں بسانے کی کوشش کریں۔یا اگر وہ اس قسم کی کوشش کر رہے ہیں تو ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم ان سے تعاون کریں اور توہمات کی دنیا سے نکل کر حقائق کی دنیا میں