خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 574
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۷۴ خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۷۴ء خدام الاحمدیہ کو کہا کہ وہاں آدمی بھیجو اور پتہ لو کہ اُن کو کس چیز کی ضرورت ہے تا کہ ہم ان کی ضرورتیں پوری کریں۔ہمارے دو نوجوانوں کا وفد وہاں گیا اور انہوں نے وہاں سارے حالات کا جائزہ لیا اور ایک مفصل رپورٹ اپنے دفتر میں پیش کی وہ مجھے بھجوائی گئی ہمیں پتہ لگا کہ وہ لوگ تکلیف میں تو ہیں لیکن اس تکلیف کو ہم جماعتی طور پر ڈور نہیں کر سکتے حکومت دور کر سکتی ہے میں نے دفتر کو کہا ہے کہ ”مساوات کو جس نے یہ خبر دی تھی لکھو کہ ہم نے خدام بھیجے تھے اُن کی یہ رپورٹ ہے اور ان کی تکلیف حکومت کے سوا اور کوئی ذریعہ دُور نہیں کرسکتا۔کیونکہ ان کی تکلیف یہ ہے کہ اس علاقہ میں بڑے بڑے زمیندار ہیں اور یہ جو بیچارے غریب کسان ہیں ان کا پچھلے سال کے سیلاب میں بھی نقصان ہوا مکانات گر گئے۔اب پھر ان کے مکانات گر گئے ہیں اور بڑے زمینداران غریبوں کو کوئی اونچی جگہ دینے کے لئے تیار نہیں جہاں وہ اپنا گاؤں آباد کر سکیں اور پانی سے بچ سکیں۔اب یہ کام میں یا آپ تو نہیں کر سکتے کہ زمینداروں سے زمین چھین کر ان غریبوں کو دے دیں۔حکومت کو تو جہ کرنی چاہیے۔پس میں نے انہیں ہدایت کی ہے کہ ”مساوات کو خط لکھیں کہ وہ اس امر کو شائع کرے یا اپنے کسی ذریعہ سے حکومت کو توجہ دلائے کہ اس طرح پاکستان کے کچھ دیہات تکلیف میں ہیں اور صرف حکومت اس تکلیف کو دور کر سکتی ہے کوئی اچھی جگہ سروے کر کے جہاں گذشتہ سال پانی نہیں آیا اور اب بھی نہیں آیا وہ جگہ منتخب کر کے انہیں دیں تا کہ وہ اپنا گاؤں آباد کریں اور سکھ اور چین کی زندگی گزار سکیں۔یہ ہماری ذہنیت اور رُوح ہے کہ ہم نے کسی کو دکھ نہیں دینا بلکہ یہ کوشش کرنی ہے کہ جتنے بھی دُکھ ہمارے ذریعہ سے دور ہوسکیں وہ ضرور دور ہو جائیں۔گذشتہ سال سیلاب کے دنوں میں اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا اور ہمارے دل اس کی حمد سے معمور ہیں کہ ہمارے نوجوانوں میں سے درجنوں بلکہ بیسیوں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر اُن لوگوں کی جانیں بچائیں جو جہالت کی وجہ سے ہر وقت ہماری اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے تیار رہتے تھے کیونکہ اگر وہ اس نور کو دیکھ لیں جو نور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا آج مہدی علیہ السلام پر نازل ہوا ہے تو پھر تو سارے جھگڑے ہی ختم ہو جاتے ہیں۔