خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 575
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۷۵ خطبہ جمعہ ۲۴ رمئی ۱۹۷۴ء پس ہمیں خدا تعالیٰ نے بڑا عظیم وعدہ دیا ہے اور بڑی عظیم بشارت دی ہے کہ ہمارے ذریعہ ہم جو بالکل کمزور ہیں اور اس دنیا میں ایک دھیلہ بھی ہماری قیمت نہیں ہے۔ہمارے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اسلام کو ساری دنیا پر غالب کرے گا اور جب دنیا کے بادشاہوں کے جرنیل اس کے کروڑواں حصہ کا رنامہ کرتے ہیں تو اُن کو بادشاہوں کی طرف سے انعام ملتا ہے تو وہ جو حقیقی بادشاہ اور عالمین کا بادشاہ ہے اُس کی خاطر سب جماعت کے افراد اور جماعت بحیثیت مجموعی یہ کام کرے گی اور دنیا میں اسلام کو غالب کرے گی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار دنیا کے دل میں مسخ کی طرح گاڑ دے گی تو جو تمام خزانوں کا مالک ہے اور بادشاہوں کا بادشاہ اور حقیقت میں ہے ہی وہی بادشاہ باقی تو سب یو نہی ہیں۔اُس کی طرف سے ہمیں کتنا بڑا انعام ملے گا جس کی ہم توقع رکھتے اور اُمید رکھتے ہیں۔اس لئے غصہ میں نہ آیا کرو اور یہ سمجھو کہ خدا تعالیٰ نے جب بَلْ لمَّا يَذُوقُوا عَذَاب جو کہا تو اس وقت جو خدا تعالیٰ کے قہر کا ہاتھ حرکت میں نہیں آیا تو میرا کیا حق ہے کہ میرا ہاتھ خدا تعالیٰ کے منشا کے خلاف حرکت میں آجائے؟ تو جب وقت آئے گا اور جس قدر وہ گرفت کرنا چاہے گا جن پر وہ ہلاکت کی گرفت کرنا چاہے گا اور جن کو دوسروں کے لئے عبرت کا مقام بنانا چاہے گا وہ خود اس کا انتظام کرے گا۔ہمیں اس کی کوئی فکر نہیں جس چیز کی ہمیں فکر ہے وہ ہمارے اپنے نفوس اور اپنی جانیں ہیں کہ ہماری کسی کمزوری اور کسی غفلت کے نتیجہ میں ہمارا رب کریم ہم سے کہیں ناراض نہ ہو جائے خدا نہ کرے کہ کبھی ایسا ہو۔خطبہ ثانیہ سے قبل حضور نے اپنی صحت سے متعلق فرمایا۔میں نے پچھلے خطبہ میں بھی بتایا تھا کہ گرمی میں میرے خون کی شکر بڑھ کر بیماری بن جاتی ہے گرمی جب سے ہوئی ہے مجھے یہ تکلیف ہے۔میں ابھی انگریزی دوائیاں استعمال نہیں کرتا۔ہومیو پیتھک یاطب یونانی کی کوئی دوائی استعمال کر لیتا ہوں کیونکر تد بیر کرنی ضروری ہے۔انگریزی دوائیاں اس لئے استعمال نہیں کرتا کہ اُن کی پھر عادت پڑ جاتی ہے اور خدا تعالیٰ مجھے توفیق دیتا رہے۔کام میرے ایسے ہیں کہ جن میں کوئی عادت میرے ساتھ چل نہیں سکتی نہ کھانے کا کوئی وقت نہ کچھ یعنی کوئی بھی عادت مجھے نہیں پڑنی چاہیے تو جس دوائی کی عادت پڑ جائے وہ پھر