خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 455 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 455

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۵۵ خطبه جمعه ۸ فروری ۱۹۷۴ء اُس کے اور کم سے کم یعنی اڑھائی کروڑ کے درمیان اس رقم کے وعدے پہنچ گئے۔اب تو میرا خیال ہے چار کروڑ کے قریب و عدے پہنچے ہوئے ہوں گے۔بہر حال جو حالات اس وقت نظر آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اس پیاری جماعت کے دل میں خدا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی جو محبت پیدا کی گئی ہے اُسے دیکھتے ہوئے کوئی بعید نہیں کہ یہ رقم پانچ اور دس کروڑ کے درمیان کہیں پہنچ جائے۔شاید پانچ کی نسبت دس کروڑ سے زیادہ قریب۔جہاں تک مالی قربانی کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہی دی جاتی ہے اور دی جاسکتی ہے۔جہاں تک دینے والوں کی نیتوں کا سوال ہے بعض دفعہ سوچتے سمجھتے ہوئے بھی نیت میں خلوص نہیں ہوتا۔بعض دفعہ جہالت کی وجہ سے انسان بعض ایسے کام کر جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے والے ہوتے ہیں اور قربانیاں قبول نہیں کی جاتیں بلکہ واپس دینے والے کے منہ پر مار دی جاتی ہیں۔ایسا بھی ہو جاتا ہے جیسا کہ میں نے نصرت جہاں کے منصوبہ کے وقت جماعت کو یہ کہا تھا کہ مجھے یہ فکر نہیں کہ روپیہ کہاں سے آئے گا اور کیسے آئے گا۔مجھے یہ فکر نہیں کہ ڈاکٹر ز جن کی ضرورت ہے یا پروفیسر ز اور لیکچررز جن کی ضرورت ہے وہ کہاں سے آئیں گے اور کیسے آئیں گے۔جب خدا تعالیٰ نے اپنی منشا کو ظاہر کیا تو وہ یہ سامان بھی پیدا کر دے گا۔جو مجھے اور آپ کو فکر ہونی چاہیے وہ یہ ہے کہ جو حقیر قربانی ہم اُس کے حضور پیش کریں اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر فرد واحد کی قربانی کو قبول کرے اور اس کے نتیجہ میں جو اُس کی رحمت اور پیار کے جلوے انسان دیکھتا ہے وہ پیار اور رحمت کے جلوے ہم میں سے ہر شخص پر ظاہر ہوں۔یہ فکر کرنی چاہیے۔اس کے لئے دُعاؤں کی ضرورت ہے۔بہت دعاؤں کی ضرورت ہے۔پس ایک منصوبہ تو اپنی سمجھ کے مطابق بنا یا اللہ تعالیٰ کی رحمتوں پر بھروسہ رکھتے ہوئے۔جماعت نے بحیثیت مجموعی بڑی قربانی کا ارادہ اور عزم کیا ہے۔اللہ تعالیٰ جماعت کو بحیثیت جماعت اور ہر فرد جماعت کو انفرادی حیثیت میں اپنی رحمتوں کی چادر میں لپیٹ لے لیکن ہم میں سے ہر ایک کے لئے خوف کا مقام ہے اور دعاؤں کی ضرورت ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے کے لئے تضرع کے ساتھ ، عاجزی کے ساتھ بہت دعائیں کرنے کی ضرورت ہے پھر جو منصوبہ، ایک کوشش ایک جدو جہد اور