خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 454 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 454

خطبات ناصر جلد پنجم ۴۵۴ خطبه جمعه ۸ فروری ۱۹۷۴ء زمانہ وہ ہے جس میں نور کی طاقتوں نے ظلمات کے ساتھ ایک آخری اور نہایت شدید جنگ لڑ کر ظلمت کو دنیا سے ہمیشہ کے لئے مٹا دینا ہے۔یہ وہ زمانہ ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظیم مہم جو چودہ سو سال سے شروع ہے وہ اپنے آخری ارتقائی دور میں سے گزرتی ہوئی ساری دنیا پر غالب آکر استحصال کے لئے نہیں، انسانوں کی بھلائی اور خیر کے لئے اُن کے دلوں کو جیت کر اللہ تعالیٰ جو واحد و یگانہ ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔جس کا کوئی بیٹا نہیں اور نہ کوئی باپ۔جس کا کوئی ہمتا نہیں۔جو اپنی تمام صفات میں لگا نہ اور یکتا ہے۔وہ پیار کرنے والا ہے اپنے بندوں سے۔انتہائی پیار کرنے والا۔جس نے انسان کو اپنا عبد بننے کے لئے پیدا کیا۔انسان کو عبد کی حیثیت سے اور انسانیت کو اپنی تمام صفات کے ساتھ اور تمام طاقتوں کے ساتھ جو اُس میں پیدا کی گئی ہیں اکٹھا کر کے، اُمتِ واحدہ بنا کر خدائے واحد و یگانہ کے جھنڈے تلے جمع کرنا ہے۔یہ وہ زمانہ ہے جس میں یہ کوشش شروع ہو چکی ہے مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے ساتھ ، مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آسمانی نزول کے ساتھ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُن روحانی برکتوں کے ساتھ جن کا وعدہ اِس مسیح اور اس مہدی کو دیا گیا تھا۔اُس پیار کے ساتھ جس پیار سے اس پاک فرزند محمد کا وجود بھرا ہوا ہے۔یہ مہم شروع ہو چکی ہے۔ایک صدی گزرنے والی ہے۔صدی کی انتہا پندرہ سال اور ایک ڈیڑھ ماہ تک ہونے والی ہے۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ پر توکل رکھتے ہوئے ، اُس سے دعائیں کرنے کے بعد ، اُسی کی دی ہوئی توفیق سے ایک منصوبہ جماعت احمدیہ کے سامنے رکھا گیا ہے۔یہ منصوبہ ہے انسان کے دل کو جیت کر خدا کے ساتھ ایک نہ ٹوٹنے والا رشتہ قائم کرنے کا۔یہ منصوبہ ہے ہر انسانی دل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو پیدا کرنے کا۔اس کے بہت سے پہلو ہیں جن کا اجمالاً میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر ذکر کیا تھا اور اس منصو بہ کو چلانے کے لئے اپنی سمجھ کے مطابق مالی قربانیوں کی میں نے تحریک کی تھی۔جیسا کہ میں نے پچھلے جمعہ میں بتایا تھا اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور جو کم سے کم میری تحریک کی رقم تھی یعنی اڑھائی کروڑ روپیہ، وعدے اس سے بڑھ چکے ہیں۔پچھلے جمعہ تک تین کروڑ اور تیس لاکھ سے زائد کے وعدے وصول ہو چکے تھے اور جو میرے، اس عاجز بندے کے نزدیک بڑی سے بڑی رقم کی اُمید کی جاسکتی تھی یعنی پانچ کروڑ رو پید،