خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 456
خطبات ناصر جلد پنجم ۴۵۶ خطبہ جمعہ ۸ فروری ۱۹۷۴ء ایک جہاد کا بنایا گیا ہے اس کے بہترین نتائج نکلنے کے لئے آسمانی طاقت کی ضرورت ہے اور یہ طاقت بھی جو آسمان سے آتی اور زمین کی ہر مخالفت کو پاش پاش کر دیتی اور مٹادیتی ہے اس آسمانی طاقت کے حصول کے لئے بھی انتہائی عاجزی کی ضرورت ہے۔تضرع کی ضرورت ہے ہر وقت دعاؤں کی ضرورت ہے۔پچھلے خطبہ میں میں نے آپ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اللہ کی دی ہوئی توفیق کے ساتھ دعاؤں کا بھی ایک پروگرام اگلے خطبہ میں ( یعنی جو آج میں دے رہا ہوں) آپ کے سامنے رکھوں گا۔اس کے متعلق اس عرصہ میں بھی اور پہلے بھی میں نے دعا ئیں بھی کیں اور میں نے سوچا بھی جو میں چاہتا ہوں جو میری خواہش ہے جو میں سمجھتا ہوں اپنے مقصد میں کامیابی کی خاطر اور اپنی قربانیوں کے جو کہ حقیر سی قربانیاں ہیں ان کے بہترین نتائج نکالنے کی خاطر جن عاجزانہ دعاؤں کی یا دیگر عبادات کی ہمیں ضرورت ہے وہ میں آپ کے سامنے رکھوں۔جماعت میں کچھ کمزور بھی ہیں اور طاقت ور بھی ہیں۔کمزور ا پنی تربیت کے لحاظ سے بھی ہیں بڑے بھی ہیں اور چھوٹے بھی ہیں اور سب کو ( یعنی طفل کی عمر تک کو ) میں عبادات کے اس منصوبہ میں شامل کرنا چاہتا ہوں۔مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی ہیں۔بعض ایسی نفلی عبادتیں ہیں۔( میں اس وقت نفلی عبادتوں کا ذکر کروں گا) بعض لوگ ایسے ہیں کہ وہ بعض عبادتیں کرنے کے قابل نہیں ہیں۔بعض ایسے ہیں کہ جتنی میں نے کم سے کم حد مقرر کی ہے اس سے زیادہ بھی کر سکتے ہیں۔ان ساری چیزوں کو سامنے رکھ کر ایک سمویا ہوا درمیانہ درجہ کا مطالبہ میں نفل عبادات کے سلسلہ میں اپنے بھائیوں اور اپنی بہنوں ، اپنے بزرگوں اور اپنے بچوں کے سامنے اس وقت رکھنا چاہتا ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ اس منصوبہ لئے آسمان پر برکات کے حصول کے لئے جماعت کو روزے بھی رکھنے چاہئیں اور اس کے لئے میرے ذہن میں یہ تجویز آئی ہے کہ یہ جو اس منصوبہ کے کم و بیش ایک سواتی ماہ ہیں ان میں ہر ماہ ایک روزہ ہر احمدی جو روزہ رکھنے کے قابل ہے روزہ رکھے۔اس طرح قریباً ایک سواتی روزے بن جائیں گے ( پندرہ سال کے اور جو ابھی دو ماہ رہتے ہیں وہ بیچ میں شامل ہو جائیں گے لیکن بعض لوگوں کو اطلاع دیر سے پہنچے گی اس لئے میں نے پندرہ سال پر