خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 396
خطبات ناصر جلد پنجم۔۳۹۶ خطبہ جمعہ ۷ /دسمبر ۱۹۷۳ء ہوگا۔مصنوعی گھی کیا ہے؟ ہے تو وہ بھی تیل ہی۔کیا یہ ضروری ہے کہ تیل کو ایسی مشکل میں بنا کر جوگھی سے ملتی جلتی ہو استعمال کیا جائے؟ بنولے کا تیل ہے مونگ پھلی کا تیل ہے سو یا بین کا تیل ہے سرسوں کا تیل ہے تو ریا کا تیل ہے۔ان تیلوں ہی سے گھی بنادیا جاتا ہے اور آپ بڑے شوق سے کھاتے ہیں یوں آپ کہتے ہیں کہ تیل نہیں کھانا اور یہ گھی کھانا ہے۔یہ گھی ہے کیا چیز؟ تیل ہی تو ہے محنت کر و خالص اور صاف تیل حاصل کرو۔احمدی دکاندار خالص چیز مہیا کریں اس تیل کو جلا کر رکھو اور استعمال کرو۔دکاندار اگر تیل کے پکوڑے تل دے تو بچے شوق سے کھالیں گے اور ماں اگر تیل میں کھانا پکا دے تو کہیں گے تیل کا کھانا ہم نے تو نہیں کھانا۔پھر پکوڑے کھانے چھوڑ دیں دوکانوں سے چیزیں لے کر کھانا چھوڑ دیں۔ہماری زندگی میں تضاد نہیں ہونا چاہیے اور ایک احمدی مسلمان کی زندگی میں نامعقولیت نہیں ہونی چاہیے۔میں بتارہا ہوں کہ جب اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں تو وہ شخص جس کی آمد معین ہے سب سے زیادہ تکلیف اٹھاتا ہے۔مثلاً جماعت احمدیہ کے تنخواہ دار کارکنان ہیں ان کی تکلیف بڑھ جاتی ہے لیکن قیمتوں میں اضافہ کے نتیجہ میں قوم کے کچھ افراد ایسے ہیں جن کی آمدنیاں بڑھ جاتی ہیں مثلاً دکاندار ہیں۔یہ ایک گہرا مضمون ہے میں ایک عام فہم مثال لوں گا۔فرض کریں گھی کی قیمت میں پچاس فیصد اضافہ ہو گیا یعنی چار روپے کی بجائے چھ روپے سیر ہو گیا۔اب ہمارا ایک احمدی دکاندار ہے اس کے پاس اگر سوسیر گھی پڑا ہے تو جب وہ نئی قیمت پر لائے گا تو پھر اس میں اس کے نفع کی نسبت پہلے کے مقابلہ میں اتنی ہی ہو جائے گی لیکن جو سو سیر گھی اس کے پاس پہلے پڑا ہے اس کے دوسوروپے تو اسے قیمت بڑھنے کے ساتھ ہی زائدمل گئے۔اس طرح معمولی آمد سے زائد اس کو دوسوروپے کی آمد ہوگئی اور یہ دوسو کا سوال نہیں اس طرح پر کروڑوں روپے کا کاروبار ہو جاتا ہے۔جو تاجر ہیں وہ قیمتیں بڑھنے سے یکدم امیر ہو جاتے ہیں۔پھر میں نے غور کیا ہے زمیندار کی آمد میں بھی اضافہ ہوا ہے کیونکہ قیمتیں اگر اتنی نہیں بڑھیں جتنی اس کے خرچ میں اضافے کے ساتھ سے بڑھنی چاہیے تھیں لیکن پھر بھی پہلے سے وہ زیادہ امیر ہو گیا۔ایک اس لئے کہ اسے پیچ اچھے ملنے لگ گئے اور اس کے فی ایکٹر کی پیداوار بڑھ گئی دوسرے اس لئے کہ مثلاً چاول ہے۔اگر چہ جس نسبت سے حکومت نے چاول کے