خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 395 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 395

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۹۵ خطبہ جمعہ ۷ /دسمبر ۱۹۷۳ء بھی تقریباً ساٹھ فیصد زائد خرج متوقع ہو گیا۔اس وجہ سے کہ ہر چیز کی قیمت بڑھ گئی ہے اپنے خرچ کو کم کرنے اور بچت کرنے اور پیسے کی حفاظت کرنے کی ایک صورت جیسا کہ میں نے کہا یہ بھی ہے کہ کوئی کھانے کا ایک لقمہ بھی ضائع نہ ہو۔اسی طرح کوئی ایک قطرہ بھی مٹی کے تیل کا ضائع نہ ہو، کوئی ایک لکڑی ایندھن کی ضائع نہ ہو، مٹی کا ایک پیالہ بھی تقسیم کے وقت ضائع نہ ہو یعنی ہر ایک چیز میں احتیاط بر تو اور کم سے کم خرچ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ہم نے ایک توازن کو قائم رکھنا ہے۔تو ازن یہ قائم ہونا چاہیے کہ مہمان کو ہر قسم کی تکلیف سے بچانے کی کوشش کرتے ہوئے جماعت کو ہر قسم کے ضیاع سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی جائے۔دوسرے اس مہنگائی کے نتیجہ میں قوم کو جن تکالیف کا سامنا ہے ان کا علاج بھی ہمیں سوچنا پڑے گا۔جب چیزیں مہنگی ہو جا ئیں تو سب سے زیادہ تکلیف اس طبقہ کو ہوتی ہے جس کی ماہوار آمدنی محدود اور معین ہو یعنی دوسوروپے یا پانچ سو یا ہزار روپے جس کی آمد ہے اگر مجموعی طور پر اشیاء کی قیمتیں دوگنی ہو جائیں تو اس شخص کی قوت خرید پہلے کے مقابلہ میں پچاس فی صد یعنی نصف رہ جائے گی اور گھر کی ضرورت اور عادتیں ) کچھ اخراجات عادتیں کرواتی ہیں کچھ اخراجات ضروریات کرواتی ہیں) وہ ضروریات اگر بڑھی نہیں تو کم از کم اتنی ہی رہیں گی جتنی تھیں۔اگر بچہ پیدا ہو گیا ہے تو ضروریات بڑھ گئی ہیں اور اگر کوئی بچہ خاندان میں پیدا نہیں ہوا تو نہیں بڑھیں اگر ایک بچہ سکول میں جانے کے قابل ہو گیا ہے تو ضرورت بڑھ گئی۔اگر سارے بچے پہلے ہی سکول جارہے تھے تو ضرورت نہیں بڑھی ( غرضیکہ اس کی تفصیل لمبی ہے ) لیکن بہر حال سب سے زیادہ تکلیف وہ شخص اٹھاتا ہے جس کی آمد محدود اور معین ہو کہ ہر مہینے اتنی آمد ہے اور اجناس کی قیمت بڑھ گئی ہے گندم کی ، روئی کی ، ایندھن کی قیمت بڑھ گئی ، دالوں کی قیمت بڑھ گئی ، میٹھے کی قیمت بڑھ گئی ، گھی کی قیمت بڑھ گئی ، سفر پر جانا ہے تو کرائے بڑھ گئے۔نامعلوم گھی کی کیوں لوگوں کو عادت پڑ گئی ہے۔تیل کھانا چاہیے ہمارے ہاں پر انا محاورہ ہے کہ تیل کو اگر جلا لیا جائے تو وہ گھی بن جاتا ہے اور گھی زیادہ جل جائے تیل جتنا بھی نہیں رہتا اس کے اندر موجود بعض مفید اجزا ضائع ہو جاتے ہیں اور تیل کے بعض مضر صحت اجزا جلانے سے جل جاتے ہوں گے اور وہ اچھا ہو جاتا