خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 322 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 322

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۲۲ خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۷۳ء اُنہوں نے جو ابتدا کی تھی اس کی انتہا ہوئی۔ویسے تو ورلی زندگی کی انتہا انسان کے خاتمہ بالخیر کے ساتھ ہوتی ہے لیکن اس انتہا کی بعض جھلکیاں وسط عمر میں بھی نظر آ جاتی ہیں۔ابھی پتہ نہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُنہوں نے اور کتنی ترقی کرنی ہے لیکن وہ ترقیات کے میدان میں داخل ہو گئے ہیں اور دنیا نے اُن کے مقام کو ایک حد تک پہچان لیا ہے تو اُن سے تعصب بھی روا رکھا جاتا ہے۔بعض دفعہ ان کو تکلیف بھی ہوتی ہے لیکن میں نے اُن کو سمجھایا تھا کہ آپ کوئی فکر ہی نہ کریں۔اپنے وقت پر اللہ تعالیٰ آپ کو سب کچھ دے گا۔انشاء اللہ۔اسی پر ہمارا توکل ہے اور وہی ہمارا سہارا ہے۔میں بتا یہ رہا ہوں کہ ہر انتہا کے لئے ابتدا کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر انتہا اور ابتدا کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے کسی ابتدا اور انتہا کے درمیان تھوڑا فاصلہ ہوتا ہے اور کسی میں زیادہ ہوتا ہے۔۴۷ء میں پاکستان معرض وجود میں آیا اور ایک نئی حکومت بنی۔پہلے دن ہی وہ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقتوں کے برابر تو نہیں ہو سکتی تھی لیکن پہلے دن سے اُسے اپنی تمام قوتوں اور استعدادوں کی صحیح نشو ونما کے لئے کوشش شروع کر دینی چاہیے تھی تا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس پاک خطۂ ارض کو جو مقام دیا یا دینا چاہ وہ ہمیں حاصل ہو جائے۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بتایا ہے جب میں کالج میں تھا اس وقت ایک ایسا زمانہ بھی آیا جس کے متعلق سوچ کر بڑا دکھ ہوتا ہے۔میرا عام اندازہ یہ ہے کہ پاکستان میں اس زمانے میں ایک لاکھ اچھے ذہن ضائع ہوئے حالانکہ اچھے ذہن اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان اور عطا ہے۔کسی قوم میں ذہین بچوں کا پیدا ہونا ایک بہت بڑی عطا ہے مگر قوم نے اپنی لا پرواہی سے ذہین بچوں کو اس لئے نظر انداز کر دیا کہ وہ غریب گھرانوں میں پیدا ہوئے تھے یا مثلاً اس لئے کہ کوئی ذہین بچہ ایسے گھرانہ میں پیدا ہوا تھا جس کی سفارش کوئی نہیں تھی یا نہایت عمدہ ذہن اس لئے ضائع ہو گئے کہ اُن کی ذہنی نشو و نما میں ایسی وقتیں تھیں جن کو نہ سمجھا گیا اور نہ دور کرنے کی کوشش کی گئی۔اگر ۱۹۴۷ء سے صرف یہ کوشش شروع کر دی جاتی کہ قوم کے ایک لاکھ ذہن ضائع نہ ہوں بلکہ اُن کو سنبھال لیا جائے تو آج ہماری یہ حالت نہ ہوتی اور سائنسدانوں کی کمی کا رونا نہ رویا جاتا۔چند سال پہلے کی بات ہے میں اس وقت تعلیم الاسلام کالج کا پرنسپل تھا پاکستان کے ایک