خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 323
خطبات ناصر جلد پنجم ۳۲۳ خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۷۳ء بہت بڑے سائنسدان نے ایک مقالہ لکھا وہ میرے بھی واقف تھے۔انہوں نے وہ مقالہ مجھے بھی دکھا یا۔اس میں لکھا ہوا تھا ہم کیا کریں ہمارے پاس صرف چار پانچ ہزار سائنسدان ہیں جب کہ قوم کو اس سے کہیں زیادہ سائنسدانوں کی ضرورت ہے۔میں نے اُن کو کہلا بھیجا کہ میرے نزدیک تم اپنی غفلت کے نتیجہ میں پچاس ہزار سائنسی ذہن تباہ کر چکے ہو اور آج تم یہ رونا رور ہے ہو کہ ہمارے پاس صرف چار ، پانچ ہزار سائنسدان ہیں۔خدا تعالیٰ نے تمہیں صرف چار، پانچ ہزار سائنسی ذہن نہیں دیئے تھے میرے اندازے کے مطابق خدا نے تمہیں چون ، پچپن ہزار ذہن عطا فرمائے تھے اور ضروری نہیں کہ میرا اندازہ درست ہو۔یہ ایک عام اندازہ ہے ممکن ہے ایک لا کھ ذہن دیئے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے دولاکھ دیئے ہوں مگر تم نے ان ذہنوں کو ضائع کر دیا اور اب یہ رونا رور ہے ہو کہ ہمارے پاس اتنے سائنسدان نہیں کہ ہم ترقی کر سکیں۔پس جب تک ساری دنیا میں بسنے والے مسلمان اس بنیادی حقیقت کو نہیں سمجھیں گے کہ بلند ہاتھ اور دینے والا ہاتھ اُمتِ مسلمہ کی ایک بنیادی صفت اور علامت ہے اس وقت تک دنیا میں ہم وہ مقام حاصل نہیں کر سکتے جو خدا چاہتا ہے کہ امت مسلمہ کو ملے۔میں جانتا ہوں کہ بہتوں کو میری یہ باتیں اچھی نہیں لگیں گی مگر یہ ایک مسلمان کی زندگی کی بہت بڑی اور بنیادی حقیقت ہے جس کے بیان کرنے سے میں خاموش نہیں رہ سکتا۔آخر یہ کیا بات ہے کہ ہمیں ہر پانچویں یا دسویں سال نہایت ہی ذلیل اور رسوا کن حالات میں سے گذرنا پڑتا ہے اور ہم کب تک یہ سنتے رہیں گے کہ فلاں جگہ مسلمان ذلیل ہو گئے۔اب دیکھو مسلمانوں کی چارلڑائیاں تو اسرائیل کے ساتھ ہو چکی ہیں ان کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔مسلمانوں کے خلاف صف آراء یہ قومیں اپنے گھر کے پالے ہوئے سوروں سے زیادہ پیار کرتی ہیں لیکن دنیا میں بسنے والی عظیم مسلمان قوم سے اُن کو کوئی پیار نہیں ہے۔بایں ہمہ ہم اُن کے سامنے مدد کے لئے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔ہم اُن کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں جو ابتدا سے اپنی بدقسمتی اور جہالت کی وجہ سے اس عظیم نور کو لینے سے انکاری ہیں جو اُن کے انسانی شرف اور مرتبہ کو بلند کرنے کے لئے اُن کی طرف آیا تھا۔پس حقیقت یہ ہے کہ وہ لینے والے ہیں دینے والے نہیں۔اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسلام کی تعلیم