خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 321 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 321

خطبات ناصر جلد پنجم ۳۲۱ خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۷۳ء نہ ہو تو اس کے انتہا تک پہنچنے کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا اور پھر ہر ابتدا اور انتہا میں تھوڑا یا زیادہ فاصلہ ضرور ہوتا ہے کیونکہ یہ امر محال ہے کہ ادھر کسی کام کی ابتدا ہوئی اور ادھر اس کی انتہا بھی ہو گئی۔انسانی زندگی میں ایسا کبھی نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نظاروں میں تو یہ چیز موجود ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی یہ شان ہے کُن فیکون یعنی ادھر وہ کسی چیز کے ہونے کا حکم دیتا ہے اور اُدھر وہ چیز معرض وجود میں آجاتی ہے لیکن انسان کو نہ پہلے اور نہ اب یہ طاقت دی گئی ہے کہ جب بھی اس کے دل میں خواہش پیدا ہو یا جب بھی وہ کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرے یا جب بھی وہ یہ کہے کہ مجھے یہ چاہیے یا میرے حق میں ایسا ہو جائے یا جب بھی اُسے کسی چیز کی ضرورت محسوس ہوئی ہو تو وہ چیز اُسے فورا مل جائے یا اس کا کام فوراً ہو جائے۔نہ انسانیت کی یہ خاصیت ہے اور نہ اس کی یہ شان ہے۔یہ صرف اللہ تعالیٰ کی شان ہے۔انسان کے ساتھ تو یہی لگا ہوا ہے۔اُس کی تو یہی خاصیت ہے کہ اُسے اپنے ارادہ اور خواہش کو انتہا تک پہنچانے کے لئے محنت اور کوشش کرنی پڑتی ہے۔دعا سے بھی اور تدبیر سے بھی مثلاً ایک نہایت ذہین بچہ پیدا ہوتا ہے اُسے اپنی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کے لئے برسوں محنت کرنی پڑتی ہے مثلاً اپنوں میں سے لے لو۔ڈاکٹر عبد السلام ہیں جو ماشاء اللہ نہایت ذہین ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انہیں علم طبعی میں ایک خاص (سائنسی ) ذہن عطا فرمایا ہے مگر جس دن وہ پیدا ہوئے تھے اس دن لوگوں کو یہ قطعاً پتہ نہیں تھا کہ ڈاکٹر عبدالسلام کو کیا چاہیے لیکن اُن کے اندر ان کی فطرت میں یہ ارج (Urgu) موجود تھی کہ میں پڑھوں اور نشو و نما حاصل کروں اور دنیوی لحاظ سے اپنے مقصود کو پالوں۔ویسے تو اللہ تعالیٰ نے اُن کو اخلاص بھی دیا ہے لیکن میں اُن کی زندگی کا صرف ایک پہلو بیان کر رہا ہوں جو اُن کی دُنیوی ترقی اور عقل وفراست سے تعلق رکھتا ہے۔چنانچہ انہوں نے جب علمی میدان میں قدم رکھا تو انہیں ایک لمبا عرصہ کوشش اور تربیت کے علاوہ پڑھائی کے دنوں میں نہ جانے کن کن تکلیف دہ مراحل میں سے گزرنا پڑا۔خدا جانے کتنی تکالیف اٹھانی پڑیں وہ کتنی راتیں جاگے ہوں گے۔مہینوں تک اُنہوں نے نیند پوری نہیں کی ہوگی نہ جانے کتنے جائز مشغلوں مثلاً کھیل کود سے اجتناب کیا ہوگا وغیرہ وغیرہ اور پھر ایک لمبے عرصہ کی محنت کے بعد انہوں نے اپنے مقصود کو پالیا۔